90

تعلقہ شجاع آباد کے علاقے جھلوری میں اغواء کے بعد قتل ہونے والی سات سالہ آمنہ کا قاتل گرفتار،قتل کا اعتراف-تعلقہ شجاع آباد کے علاقے جھلوری میں اغواء کے بعد قتل ہونے والی سات سالہ آمنہ کا قاتل گرفتار،قتل کا اعتراف-

ملزم نے معصوم آمنہ کو جنسی زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر بے دردی سے قتل کیا

میررپورخاص(نمائندہ خصوصی) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق میرپورخاص کی تحصیل شجاع آباد کے علاقہ جھلوری میں ایک بچی آمنہ بنت غلام حیدر کنڈانی بلوچ عمر 7/8 سال کی گمشدگی کا مقدمہ نمبر 73/2025 زیر دفعہ پولیس اسٹیشن تعلقہ میں والد کی مدعیت میں داخل کیا گیا۔مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف داخل کیا گیا- ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ کے احکامات پر اسپیشل ٹیم تعینات کی گئی۔دوران تفتیش ابتدائی معلومات میں یہ ظاہر کیا گیا کہ بچی کو اسکول ٹائم کے دوران اغوا کیا گیا۔دوران تفتیش مورخہ 9 نومبر کو ایک نامعلوم لاش دبکا شاخ سے برآمد ہوئی۔ جس کی شناخت آمنہ بنت غلام حیدر سے ہوئی۔ جو بروقت مقتول آمنہ کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ تاکہ قتل کی وجوہات سامنے آسکیں۔جو ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں موت کی وجہ گلے میں پھندہ بتائی گئی۔ جو فائینل میڈیکل رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔دوران تفتیش پولیس ٹیم نے مزید پیش رفت کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں کو زیر غور رکھا- اور انہی کی بناء پر مختلف پیشہ سے تعلق رکھنے والے افراد سےفرداً فرداً معلومات حاصل کی اور مشکوک افراد کی نا صرف سرویلینس کی گئی بلکہ تفتیش میں بھی شامل کیا گیا۔ اسی دوران تفتیشی ٹیم نے کیس کے مرکزی ملزم زاہد ولد محمد اشرف عرف کھبڑ خاصخیلی کو مورخہ 12 نومبر کو نزد گوٹھ مبین خاصخیلی سے گرفتار کیاـ دوران انویٹیگیشن ملزم زاہد خاصخیلی نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ اس نے مقتولہ آمنہ کو اغوا کرنے کے بعد پوشیدہ طریقہ سے گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول جھلوری میں زنا کے ارادے سے لے گیا۔البتہ بچی کے رونے اور شور مچانے پر ملزم نے کچرے میں پڑی ڈرپ کی ٹیوب سے بچی کا گلہ گھونٹ کر قتل کر دیا اور بچی کی لاش کو اسکول کی دیوار کے عقب میں چھپا کر روانہ ہو گیا۔ملزم نے جرم چھپانے کی خاطر مقتولہ آمنہ کے باپ کو جا کر اطلاع دی کہ مقتولہ آمنہ اسکول کے پاس رو رہی تھی جسے میں اسکول چھوڑ کر آیا ہوں۔ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ ایسی غلط انفارمیشن دینے کا مقصد تفتیشی ٹیم کو گمراہ کرنا تھا-ملزم نے دوران تفتیش مزید انکشاف کیا کہ مورخہ 4 نومبر کو رات کے وقت واپس اسکول کے اندر جا کر لاش کو ایک بیگ (کٹا) میں چھپا کر اسکول سے کچھ دور مفاصلہ میں واقع جمڑاو نہر کے اندر لاش کو پھینک دیا۔ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ وہ بچی کو اکثر و بیشتر چیز دے کر اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ملزم نے مزید انکشاف کیا کہ وہ بچی کے آنے جانے کہ اوقات پر نظر رکھے ہوا تھا اور موقع دیکھتے ہی اس نے اغوا کیا۔ملزم نے چالاکی سے مقتولہ کی فیملی اور پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش سے غلط انفارمیشن دیتا رہا۔ملزم نے اپنی بیوی کو کافی عرصے قبل طلاق دے دی تھی۔ اور علاقہ میں حجام کا کام کرتا ہے۔واضح رہے کہ اس واقع کا سیاسی و سماجی، مذہبی شخصیات اور پولیس کے اعلیٰ افسران اور وکلاء برادری نے سخت نوٹس لیا اور مقتولہ آمنہ کے خاندان سے اظہار یکجھتی کی۔ مقدمہ میں دفعہ 302 کا اندراج کیا گیا ہے۔اور مقدمہ کی تفتیش کی اگے بڑھایا جا رہا ہے۔ایس ایس پی میرپورخاص نے انویسٹیگیشن ٹیم میں شامل آفیسران بشمول انسپکٹر غلام حسین سدھایو، انسپکٹر عنایت علی زرداری، ایس ایچ او سنجھے کمار اور ایس آئی دانش بھٹی انچارج ون فائیو کی قلیل وقت میں مجرم کی گرفتاری اور مقتولہ کے خاندان کو انصاف کی فراہمی پر انعامات دینے کا اعلان کیا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں