69

نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)پاکستان۔فرانس کی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے نواب شاہ کے قریب چانھوں جو دڑو کی 10 سالہ کھدائیوں کا جائزہ لینے کے لیے تقریب کا انعقاد صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر

نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)پاکستان۔فرانس کی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے نواب شاہ کے قریب چانھوں جو دڑو کی 10 سالہ کھدائیوں کا جائزہ لینے کے لیے تقریب کا انعقاد صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔پاکستان اور فرانس کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے گزشتہ دس برسوں سے نواب شاہ کے قریب چانھوں جو دڑو کی محیط کھدائیوں کے نتائج کے حوالے سے ایک خصوصی تقریب قائد عوام انجنئیرنگ یونیورسٹی نواب شاہ منعقد کی گئی صوبائی وزیرِ صحت و پاپولیشن ویلفیئر سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی۔تقریب میں ماہرِ آثارِ قدیمہ اروڑا دودیئر اور فرانسیسی کے دیگر ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے شرکاء کو چانھوں جو دَڑو میں کھدائی کے دوران دریافت ہونے والی قدیم اشیاء، برتنوں، زیورات، اوزاروں اور روزمرہ استعمال کی نوادرات کے متعلق تفصیلی آگاہی دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نوادرات سندھ کی قدیم تہذیب کے سماجی، ثقافتی اور معاشی پہلوؤں کو سمجھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چانھوں جو دَڑو سندھ کی تہذیبی تاریخ کا ایک قیمتی ورثہ ہے، جو دنیا بھر میں وادئی سندھ کی شاندار تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور فرانس کے درمیان آثارِ قدیمہ کے شعبے میں جاری تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مشترکہ منصوبے ہماری ثقافتی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چانھوں جو دڑو ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کھدائی کے دوران ملنے والی اشیاء کے پیش نظر چانھوں جو دڑو، موہن جو دڑو سے بھی قدیمی ہے انہوں نے مزید کہا کہ شہید بینظیرآباد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ چانھوں جو دڑو ایک قدیمی مقام یہاں پر موجود ہے اور اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شہید بینظیرآباد کے رہائشی ثقافت کے حوالے سے کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ چانھوں جو دڑو سے ملنے والی اشیاء کو محفوظ رکھنے کے لیے چانھوں جو دڑو پر سندھ حکومت کی جانب سے میوزیم بنایا جارہا ہے جس میں تمام اشیاء رکھیں جائیں گی تاکہ شہری اور بالخصوص طلباء و طالبات کو اس بات کا علم ہوسکے کہ ہمارے آباؤ اجداد اپنی ثقافت سے کتنا پیار کرتے تھے اس موقع پر ماہرین نے کھدائی کے مختلف مراحل، قدیم بستیوں کے آثار، اور تحقیق کے دوران سامنے آنے والی نئی معلومات پر مبنی تصویری و دستاویزی مواد بھی پیش کیا۔ تقریب سے قونصل جنرل فرانس کراچی الیکسس، سیکریٹری ثقافت خیر محمد کلوڑ،قائد عوام انجنئیرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلیم رضا سموں، سید منیر شاہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا تقریب میں کمشنر شہید بینظیرآباد ڈویژن شہمیر خان بھٹو، ڈپٹی کمشنر عبدالصمد نظامانی، سیاسی و سماجی شخصیت عبد الستار کیریو، ریجنل ڈائریکٹر کالجز پروفیسر محمد سلیمان سیال، پ پ پ ضلع صدر محمد سالم زرداری، ڈپٹی ڈائریکٹر بلاول ہسٹاریکل ریسرچ سینٹر و انچارج میوزیم نظیر احمد زرداری، فرانسیسی ماہرین اور مقامی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے فرانسیسی ماہرین اور دیگر میں سوینیر تقسیم کئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں