اب آئینی ترمیم کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا!
پاکستان کی حالیہ 27ویں آئینی ترمیم نے آئینی منظرنامے میں ایک اہم اور تاریخی تبدیلی کی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 239 میں واضح شق شامل کی گئی ہے کہ اب کسی بھی آئینی ترمیم کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ آئینی ترمیم پر عدالت کی نگرانی کو محدود کر دیا گیا ہے، اور اس کے اثرات آئینی، قانونی اور سیاسی سطح پر بہت اہم ہیں۔
—
قبل ازیں، جب بھی پارلیمنٹ نے کوئی آئینی ترمیم منظور کی، تو شہری، تنظیمیں یا دیگر ادارے Supreme Court یا High Court میں جا کر اسے چیلنج کر سکتے تھے۔ عدالت یہ فیصلہ کرتی تھی کہ ترمیم آئین کے بنیادی اصولوں اور بنیادی ڈھانچے (basic structure) کے مطابق ہے یا نہیں۔
Eighteenth Amendment (2010): اس کے خلاف چیلنج دائر ہوئے۔ عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترامیم لانے کا اختیار تو حاصل ہے، لیکن یہ اختیار لامحدود نہیں، بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے دائرے میں محدود ہے۔
Twenty‑Fourth Amendment: لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں کہ ترمیم سے نمائندگی اور ووٹ کے اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے اس پر غور کیا اور آئینی جائزہ لیا۔
اس طرح، عدالتیں پارلیمنٹ کی ترامیم پر نظر رکھتی تھیں اور آئین کے بنیادی اصولوں کی حفاظت کرتی تھیں۔
—
اب 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سب کچھ بدل گیا ہے:
1. چیلنج کا راستہ بند: اب کوئی عدالت اس ترمیم کو چیلنج نہیں کر سکتی۔
2. پارلیمنٹ کی بالادستی: پارلیمنٹ کے فیصلے حتمی اور غیر مشروط قرار پاتے ہیں۔
3. عدالتی نگرانی محدود: عدالتیں آئینی ترامیم پر نظرثانی یا جائزہ نہیں کر سکتیں، جو پہلے ایک اہم توازن کا حصہ تھا۔
—
یہ ترمیم قانونی اور سیاسی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے:
مثبت پہلو: پارلیمنٹ کے اختیار کو مضبوطی ملتی ہے، اور آئینی ترامیم پر کسی قسم کی عدالتی رکاوٹ نہیں رہتی۔
تشویش کا پہلو: عدلیہ کی نگرانی کمزور ہو جاتی ہے، اور آئینی توازن (checks and balances) متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئینی ترامیم جو متنازعہ ہوں، انہیں اب عدالتیں روک نہیں سکتیں۔
—