October 15, 2026

استنبول میں پاک–افغان مذاکرات کے تعطل کے دوران طالبان حکومت نے روس کے لیے قندھار کے 22 ٹن انار برآمد کیے ہیں

IMG-20251030-WA0073

استنبول میں پاک–افغان مذاکرات کے تعطل کے دوران طالبان حکومت نے روس کے لیے قندھار کے 22 ٹن انار برآمد کیے ہیں، جن کی مالیت تقریباً 24 ہزار ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ کابل حکام اسے “خودانحصاری کی علامت” قرار دے رہے ہیں، مگر ماہرین کے مطابق یہ اقدام ایک علامتی پی آر سرگرمی ہے، جو مذاکراتی دباؤ اور سرحدی بندشوں کے پس منظر میں کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے اور ٹی ٹی پی کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ بدستور برقرار ہے۔ طورخم، چمن اور غلام خان بارڈر کی بندش سے افغانستان کی برآمدات ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ تک محدود ہو چکی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شمالی راستوں سے محدود برآمدات جنوبی تجارتی راستوں کی جگہ نہیں لے سکتیں جبکہ کابل کی اصل خودمختاری عسکریت کے خاتمے سے مشروط ہے نہ کہ انار کی برآمد سے۔