47

عمرکوٹ (رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف) سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی عمرکوٹ کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز انگیجمینٹ پروگرام کے تحت مزمل

عمرکوٹ (رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگھانی بیوروچیف) سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی عمرکوٹ کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز انگیجمینٹ پروگرام کے تحت مزمل گیسٹ ہاؤس عمرکوٹ میں سندھ حکومت کے “ممتا پروگرام” کی آگاہی اور اس کے ثمرات کے حوالے سے ایک پروقار سیمینار منعقد کیا گیا، اس موقع پر سیمینار میں اسسٹنٹ کمشنر عمرکوٹ رجب علی سٹھیو نے مہمان خصوصی طور شرکت کی، جبکہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عمرکوٹ نور محمد شیخ، ڈپٹی ڈائریکٹر پاپولیشن عمرکوٹ سلیمان راہمون، ڈی ایم پی پی ایچ آئی عمرکوٹ شرف الدین میمن، ڈبلیو ایچ او کے فوکل پرسن ڈاکٹر عالم آزاد، ای پی آئی عمرکوٹ کے فوکل پرسن ڈاکٹر شیر مھر، ڈی ای او محمد زمان کھوسو، پرنسپل رائیٹس سالیوشن اسکول راجیش کمار، سندھی ادبی فورم عمرکوٹ کی میڈم خالدہ منیر، سماجی تنظیموں کے نمائندوں کنیا موہن لال، امام بخش خاصخیلی، امتیاز کھوسو، محمد بخش کنبھر، میڈم کرن بشیر، عبدالغنی ھالیپوٹو، شیوارام سوٹھڑ، ضلع عمرکوٹ کے مختلف اسٹیک ہولڈرز، سماجی تنظیموں کے نمائندگان، محکمہ اطلاعات، صحت، تعلیم اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے بھی بھرپور شرکت کی، اس موقع پر مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر عمرکوٹ رجب علی سٹھیو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ کا یہ ممتا پروگرام ایک خاص پروگرام ہے جس سے حاملا عورتیں اور بچے میل نیوٹریشن کو کم کیا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ عمرکوٹ میں 45 فیصد بچے میل نیوٹریشن کا شکار ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے ہم بچے اور ماں کی صحت کو بہتر کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو اگر صحیح طریقے سے عملدرآمد کیا جائے تو ہم حکومت کے 2 سئو ارب روپے بچا سگتے ہیں اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی یہ اولین ذمیداری ہے کہ ہم سب اس پروگرام کو سئو فیصد کامیاب بنائیں، اس پروگرام کی آگاہی کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر کام کرنے کی ضرورت ہے، اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر نور محمد شیخ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ممتا پروگرام کا خاص مقصد یہ ہے کہ شھری اور دیہی علاقوں کی عورتوں کو انسٹیٹیوٹ ڈیلیوری کروانا ہے تاکہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھہ سگین، انہوں نے بینک الفلاح کے منسلک عملداروں کو ھدایت دی کہ ممتا پروگرام کے بینیفشری عورتوں کو جو پیسے مل رہے ہیں ان کی کٹوتی کو روکا جائے، اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عمرکوٹ میر حسن آریسر، چیف میونسپل آفیسر عمرکوٹ سید ساجد علی شاہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر سیمینار کے دوران سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی عمرکوٹ کی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر میڈم خدیجہ قبرہ نے شرکاء کو ممتا پروگرام کے بنیادی مقاصد اور خصوصیات سے متعلق تفصیلی بریفننگ دی، اس موقع پر انوائرمینٹ سیفٹی سیف گارڈ کی اسپیشلسٹ میڈم علی ہما ھالیپوٹو نے بھی اس پروگرام کے حوالے سے بریفننگ دی، اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کی اس انقلابی فلاحی اسکیم کے ذریعے حاملہ خواتین کو قبل از پیدائش اور بعد از پیدائش طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ زچگی کے دورانِ صحت رسک کم ہو، غذائی قلت کا خاتمہ ہو اور نومولود بچوں کی نشوونما بہتر انداز میں ممکن بنائی جا سکے، اس موقع پر سیمینار کے شرکاء نے بریفننگ کے دوران پروگرام سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے اور فیلڈ سطح پر مزید بہتری کے لیے اپنی عملی تجاویز بھی پیش کیں، اس موقع پر شرکاء نے حکومت سندھ کے اس اقدام کو عوام دوست پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممتا پروگرام سے ضلع عمرکوٹ سمیت سندھ بھر میں ماں اور بچے کی صحت کے اشاریوں میں بہتری آئے گیا، اس موقع پر مقررین نے کہا کہ متعلقہ محکموں اور سماجی تنظیموں کے باہمی تعاون سے اس پروگرام کی رسائی کو مزید مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق خواتین اس سہولت سے استفادہ حاصل کر سکیں، آخر میں میڈم خدیجہ قبرہ نے سیمینار میں شریک تمام اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی عمرکوٹ عوامی فلاح کے لیے اپنے اقدامات کو اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں