47

تاریخ کے اوراق میں چھپا آئینہ — کشمیر کا یومِ سیاہ

تاریخ کے اوراق میں چھپا آئینہ — کشمیر کا یومِ سیاہ

اکتوبر کی خنک ہوا جب وادی کے چناروں سے ٹکراتی ہے تو ہر پتہ ایک کہانی سناتا ہے۔ ایک ایسی کہانی جو پچھتر برس سے سیاہی میں ڈوبی ہوئی ہے، ایک ایسا دن جو ہر سال آتا ہے مگر اپنے زخم تازہ کر کے جاتا ہے۔ ستائیس اکتوبر، وہ دن جسے دنیا شاید ایک تاریخ سمجھے، مگر کشمیریوں کے لیے یہ دن ایک عہدِ غلامی کی تجدید ہے۔ یہ وہ دن ہے جب بندوقوں کے سایوں میں ایک قوم کا حق چھینا گیا، جب آزادی کے خواب کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا، جب زمین کی تقسیم نے انسانیت کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔

تاریخ کے صفحات پر لکھا ہے کہ 1947ء میں برصغیر تقسیم ہوا تو کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی۔ وہاں کے عوام پاکستان سے الحاق کے خواہاں تھے، مگر مہاراجہ ہری سنگھ کے دستخطوں نے ایک پوری نسل کے مقدر کو بدل دیا۔ بھارت نے الحاق کے بہانے فوجیں داخل کیں اور کشمیر پر قبضہ جما لیا۔ وہ قبضہ جو ابتدا میں “عارضی” کہلایا، وقت کے ساتھ ظلم کی مستقل داستان بن گیا۔ اس دن سے لے کر آج تک وادی کی فضا میں بارود کی بُو ہے، گولیوں کی آواز ہے، اور ایک ایسی خاموشی ہے جو کسی قبرستان سے زیادہ گہری لگتی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا ملک، کشمیر کے اندھیروں پر قفل لگا کر خود اپنے ہی اصولوں کو دفن کر چکا ہے۔ کشمیر کے گاؤں کرفیو میں قید ہیں، اسکول ویران ہیں، اور بچوں کے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ پتھر ہیں۔ ہر گھر میں ایک تصویر ہے جس کے نیچے لکھا ہے: “شہید”۔ وہ شہید جن کے جنازے خاموشی میں اٹھائے گئے، جن کے نام پہاڑوں کی برف پر لکھے گئے، جن کے خواب ابھی ادھورے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے وعدے کیے، قراردادیں منظور کیں، مگر ہر لفظ سیاست کی گرد میں گم ہو گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں رپورٹس شائع کرتی ہیں، مگر ان رپورٹس سے نہ ظلم کم ہوتا ہے، نہ وادی میں بہتا لہو۔ دنیا کے ضمیر پر جیسے نیند کا بوجھ ہے۔ شاید اس لیے کہ کشمیر میں تیل نہیں، طاقت نہیں، صرف انسان ہیں — وہ انسان جو ظلم سہہ رہے ہیں، مگر اپنی زمین سے جڑے ہیں۔

پاکستان ہر سال یومِ سیاہ مناتا ہے۔ جلسے ہوتے ہیں، ریلیاں نکلتی ہیں، بینرز اٹھتے ہیں، نعرے لگتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اتنا کافی ہے؟ کیا ہم نے کشمیر کے لیے وہ کیا جو ایک زندہ قوم کرتی ہے؟ ہمارے سفارتی بیانات، ہماری سیاسی قراردادیں، سب اپنی جگہ درست ہیں، مگر دنیا جذبات سے نہیں، دلیل سے قائل ہوتی ہے۔ کشمیر کے مقدمے کو دنیا کے ہر فورم پر اس شدت سے لڑنے کی ضرورت ہے جس شدت سے وہاں کی ماں اپنے لاپتہ بیٹے کو ڈھونڈتی ہے۔

کشمیر کے نوحے وقت کے ساتھ طویل ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ مائیں جو ستر کی دہائی میں جوان تھیں، اب سفید بالوں کے ساتھ اپنے بیٹوں کی قبروں پر بیٹھی ہیں۔ وہ بچے جو ان ماؤں کی گود میں کھیلا کرتے تھے، آج جیلوں میں ہیں۔ وہ مائیں جن کے بیٹے کبھی لوٹ کر نہیں آئے، اب بھی دروازے کھلے رکھتی ہیں۔ ہر دروازہ وہاں امید کا استعارہ ہے، ہر درخت وہاں گواہ ہے۔

کشمیر کا دکھ صرف ایک علاقے کا نہیں، یہ انسانیت کا المیہ ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں دنیا اپنی منافقت دیکھنے سے گریز کرتی ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ سیاسی مسئلہ ہے، کوئی اسے سرحدی تنازعہ کہہ کر بھول جاتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ کشمیر ایک روحانی زخم ہے، جو ہر اس دل میں دھڑکتا ہے جو انصاف پر یقین رکھتا ہے۔

جب بھارت نے پانچ اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 اور 35A ختم کیے، تو یہ اقدام دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ ظلم اب آئین کی زبان بولے گا۔ کشمیر کی شناخت چھینی گئی، اس کا پرچم اتارا گیا، اور پوری وادی کو ایک قید خانے میں بدل دیا گیا۔ انٹرنیٹ بند ہوا، میڈیا خاموش ہوا، مگر ظلم کی کہانیاں ہوا کے ساتھ سرحدوں کے پار آتی رہیں۔ دنیا نے دیکھا، مگر بولی نہیں۔

تاریخ کے اوراق میں ایک آئینہ چھپا ہے، اور اس آئینے میں ہم سب کے چہرے نظر آتے ہیں — وہ چہرے جو کبھی غم سے بھرے ہیں، کبھی بے حسی سے۔ کشمیر ہم سے پوچھتا ہے کہ تم کب تک میری سیاہی کو دیکھ کر خاموش رہو گے؟ تم کب اپنے عزم کو لفظوں سے نکال کر عمل میں ڈھالو گے؟ اور ہم، شاید اب بھی جواب تلاش کر رہے ہیں۔

یومِ سیاہ محض احتجاج نہیں، یاد دہانی ہے — کہ ظلم اگر دیر تک بھی چلے تو حق کی روشنی کو روک نہیں سکتا۔ کشمیر کی سیاہ راتیں لمبی ضرور ہیں مگر سورج کو طلوع ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایک دن آئے گا جب وادی کے ہر چنار کی پتی پر آزادی کا رنگ جھلکے گا، جب دریا پھر نیلے بہیں گے، اور جب ہر ماں کے آنسو خوشی میں بدل جائیں گے۔ تب تاریخ کے اوراق میں یہ تحریر ہوگی — کہ ظلم ہارا، سچ جیتا۔
کشمیر کی سیاہی دراصل انسانیت کے ماتھے پر لکھی وہ لکیر ہے،
جو مٹ نہیں سکتی، جب تک آزادی بول نہ اٹھے۔

@@@@@@@@@@@@@@@

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں