117

مہنگائی کے طوفان میں غریب عوام کا جینا دوبھر تحریر ظہیر حیدر جعفری

مہنگائی کے طوفان میں غریب عوام کا جینا دوبھر

تحریر ظہیر حیدر جعفری

اکستان میں مہنگائی اب ایک ایسا مسئلہ بن چکی ہے جو نہ صرف عوام کی جیبوں پر بھاری پڑ رہا ہے بلکہ ان کے اعصاب، خوابوں اور مستقبل پر بھی گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج کا سب سے بڑا بحران مہنگائی ہی ہے، جو ہر گھر، ہر دسترخوان اور ہر دل کی دھڑکنوں کو متاثر کر رہا ہے۔ اشیائے خورونوش سے لے کر بجلی، گیس اور پٹرول تک ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے، جبکہ آمدن کا گراف زمین میں دفن ہوتا جا رہا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور عالمی سطح پر تیل و اجناس کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے شدید معاشی دباؤ پیدا کیا ہے۔ لیکن مسئلہ صرف عالمی عوامل کا نہیں، داخلی سطح پر پالیسیوں کی ناکامی، بدعنوانی، کرپشن اور غیر متوازن اقتصادی ترجیحات نے بھی اس طوفان کو مزید تیز کر دیا ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں مگر عوام کی حالت جوں کی توں رہی — بلکہ ہر آنے والی حکومت کے ساتھ قیمتوں کا بوجھ مزید بڑھتا گیا۔

عام شہری کا مسئلہ اب صرف بجلی کا بل ادا کرنا نہیں رہا بلکہ دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی ایک کٹھن امتحان بن گیا ہے۔ ایک مزدور جس کی روزانہ اجرت 1500 روپے ہے، وہ اپنے بچوں کے لیے آٹے، دال، سبزی اور دودھ تک کا انتظام نہیں کر سکتا۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں افراطِ زر کی شرح 25 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ خوراک کی مہنگائی 35 سے 40 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اس صورتحال میں متوسط طبقہ تیزی سے نچلے طبقے میں اور نچلا طبقہ خطِ غربت سے نیچے جا رہا ہے۔

مہنگائی کا اثر صرف معیشت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے معاشرتی ڈھانچے کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لوگوں میں مایوسی، اضطراب اور جرم کے رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئے ہیں۔ اسکولوں کی فیس، کتابیں اور یونیفارم اتنے مہنگے ہو چکے ہیں کہ بہت سے والدین بچوں کو تعلیم جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے۔ دوسری جانب، دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ بیمار کے لیے علاج کو ناممکن بنا رہا ہے۔ نتیجتاً، لوگ علاج کی بجائے برداشت کو علاج سمجھنے لگے ہیں۔

مہنگائی کا سب سے بڑا شکار خواتین اور بچے بنتے ہیں۔ گھریلو خواتین کے لیے بجٹ بنانا اب ایک پہیلی سے کم نہیں۔ پہلے جو تنخواہ یا آمدن ایک مہینے چلتی تھی، اب وہ بمشکل دس دن کا خرچ پورا کرتی ہے۔ بازاروں میں سبزی فروش سے لے کر دودھ والے تک، ہر کوئی اپنے نرخ بڑھا چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے “سبسڈی” یا “ریلیف پیکیجز” کا اعلان تو کیا جاتا ہے، مگر یہ اقدامات اکثر وقتی اور نمائشی ثابت ہوتے ہیں۔ عملی طور پر عوام کو ریلیف کے بجائے مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ سوال اب ہر شہری کے ذہن میں ہے کہ آخر مہنگائی کا یہ طوفان کب رکے گا؟ کیا کوئی پالیسی ایسی ہے جو غریب کو حقیقی معنوں میں سہارا دے سکے؟ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے معاشی نظم و نسق میں شفافیت، ٹیکس نیٹ کا پھیلاؤ اور غیر پیداواری اخراجات میں کمی ضروری ہے۔ درآمدات پر انحصار کم کر کے مقامی پیداوار کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ زراعت، چھوٹی صنعتوں اور روزگار کے مواقع میں بہتری لائے بغیر مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آ سکتا۔

عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے حکومت کو فوری طور پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ صرف اعداد و شمار یا پریس کانفرنسوں سے حالات نہیں بدلیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی ساز اشرافیہ کے نہیں بلکہ عام شہری کے زاویے سے سوچیں۔ اگر کسی مزدور کے بچے کو روٹی، تعلیم اور علاج نہیں ملتا تو یہ صرف اُس کا نہیں بلکہ پورے نظام کا المیہ ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مہنگائی محض ایک اقتصادی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ ایک سماجی، نفسیاتی اور انسانی المیہ بن چکا ہے۔ غریب عوام کے لیے جینا واقعی دوبھر ہو گیا ہے۔ وہ لوگ جو صبح سویرے روزی کے لیے نکلتے ہیں، شام کو تھکے ہارے گھر لوٹتے ہیں تو ان کے سامنے بچوں کی بھوک، بجلی کے بل اور مہنگائی کے نئے نرخنامے کھڑے ہوتے ہیں۔
اگر ریاست نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو یہ طوفان صرف غریبوں کے نہیں، پورے نظام کے وجود کو بہا لے جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں