35

پانی کی سیاست یا عوام کی ضرورت؟

پانی کی سیاست یا عوام کی ضرورت؟

پنجاب میں صاف پانی کے منصوبے کا اعلان کوئی نئی خبر نہیں۔ مگر اس بار فرق یہ ہے کہ اعلان کے ساتھ ایک عزم بھی جُڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے جب سے یہ کہا ہے کہ صوبے کے 16 اضلاع میں صاف پانی کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں، عوام کے دل میں ایک بار پھر امید جاگی ہے — وہی امید جو برسوں سے خشک کنوؤں اور زنگ آلود نلکوں کے سائے میں دفن ہو چکی تھی۔

یہ حقیقت ہے کہ پنجاب کا بیشتر دیہی علاقہ آج بھی آلودہ پانی کی بیماریوں سے لڑ رہا ہے۔ کہیں پیٹ کے امراض ہیں، کہیں جلد کی بیماریاں، اور کہیں بچوں کی کمزور ہڈیاں۔ شہری علاقوں میں تو بوتل بند پانی نے وقتی سہارا دے رکھا ہے، مگر گاؤں میں آج بھی کنوؤں سے نکلا ہوا زہریلا پانی ہی زندگی کی مجبوری ہے۔ ایسے میں حکومت کا یہ منصوبہ اگر واقعی زمینی سطح پر اتر گیا، تو یہ پنجاب کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

لیکن بات اتنی سادہ نہیں۔ پنجاب میں صاف پانی کے منصوبے کا نام سنتے ہی ایک پرانی یاد تازہ ہو جاتی ہے — وہی منصوبہ جو چند برس قبل “صاف پانی کمپنی” کے نام سے شروع ہوا تھا، اور جو سیاسی بیانات اور کرپشن کے شور میں کہیں گم ہو گیا۔ اربوں روپے خرچ ہوئے، مگر نتیجہ ایک خشک وعدہ نکلا۔ آج اگر نیا منصوبہ اسی ڈگر پر چلا، تو عوام کا اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ حکومت نے اب جو عزم دکھایا ہے، کیا وہ صرف انتخابی نعرہ ہے یا واقعی عوام کی فلاح کے لیے کوئی عملی سوچ بھی اس کے پیچھے ہے؟ پنجاب کی بیوروکریسی کی تاریخ اس معاملے میں زیادہ روشن نہیں رہی۔ فائلوں میں بند منصوبے، کاغذوں پر بنتی اسکیمیں، اور افتتاحی تختیوں پر سیاستدانوں کے نام — یہی ہماری ترقی کی حقیقت رہی ہے۔

پانی کی قلت اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا، یہ سماجی اور سیاسی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ جب کسی گاؤں میں پانی کی فراہمی رکتی ہے تو وہاں کے لوگ صرف پیاسے نہیں رہ جاتے — وہ ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ اور سیاست میں ناراض عوام سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے یہ منصوبہ اب شروع کیا جا رہا ہے، تاکہ آنے والے موسمِ انتخاب میں عوام کو بتایا جا سکے کہ “ہم نے تمہیں پانی دیا ہے”۔

مگر اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے، تو اسے صرف نلکے نہیں لگانے، بلکہ ایک مکمل واٹر مینجمنٹ پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔ پنجاب میں زیرِ زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے۔ کھیتوں میں ٹیوب ویل بے دریغ چل رہے ہیں، اور زمین کا پیاسا سینہ خالی ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہم نے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام پر توجہ نہ دی، تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ ہماری آنے والی نسلوں کو پیاسا چھوڑ جائے گا۔

پنجاب کی عوام کا مسئلہ محض صاف پانی نہیں، بلکہ ایمان دار نیت ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ منصوبہ کب مکمل ہوگا، کون اس کی نگرانی کرے گا، اور کیا ہر ضلع میں ایک جیسی توجہ دی جائے گی؟ اگر اس بار بھی فوٹو سیشن اور پریس کانفرنسوں سے آگے بات نہ بڑھی، تو “صاف پانی” ایک بار پھر سیاسی گرد میں گم ہو جائے گا۔

آج وقت ہے کہ حکومت وعدوں کی نہیں، عمل کی سیاست کرے۔ پانی اب صرف زندگی نہیں — عزت، معیشت اور بقا کا سوال بن چکا ہے۔ اگر پنجاب کے 16 اضلاع میں واقعی صاف پانی پہنچ گیا، تو یہ منصوبہ نہیں بلکہ ایک انقلاب کہلائے گا۔

ورنہ، ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے:
پانی کے بغیر زمین نہیں رہتی،
اور وعدوں کے بغیر سیاست نہیں چلتی —
لیکن دونوں کے بغیر قوم نہیں بنتی۔

@@@@@@@@@@@@@@@@@

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں