یوتھ کی امنگوں کے ترجمان — ملک سعد بشیر اعوان
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
قوموں کی ترقی کا راز ان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور جذبوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ وہی نوجوان جب مثبت سمت میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں تو وہ اپنے معاشرے میں تبدیلی اور ترقی کے سفیر بن جاتے ہیں۔ آج کے اس دور میں، جہاں نوجوان مایوسی، بے روزگاری اور عدم استحکام جیسے مسائل سے دوچار ہیں، وہاں کچھ ایسی شخصیات بھی ہیں جو ان کے اندر امید، اعتماد اور عمل کا جذبہ پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ انہی میں ایک نام ملک سعد بشیر اعوان کا ہے — جو حقیقی معنوں میں یوتھ کی امنگوں کے ترجمان بن چکے ہیں۔ ملک سعد بشیر اعوان ، ممبر قومی اسمبلی ملک شاکر بشیر اعوان کے صاحبزادے اور سرگودھا ڈویژن کی نامور سماجی و سیاسی شخصیت ملک عمران بشیر اعوان کے بھتیجے ہیں ۔ آپ انتہائی ہردلعزیز طبیعت کے مالک ہیں۔ موصوف نہایت ملنسار، پروقار، بردبار ، ہنس مکھ اور معاملہ فہم اوصاف سے متصف ہیں ۔ اپنے انہی اوصاف حمیدہ کی وجہ سے نہ صرف ضلع خوشاب بلکہ سرگودھا ڈویژن میں نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں اور خصوصا” نوجوان نسل میں نہایت مقبول ہیں ۔ ملک سعد بشیر اعوان کو جب سے پاکستان مسلم لیگ نون یوتھ ونگ ضلع خوشاب کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں وہ نوجوان نسل کی امنگوں کی ترجمانی کے لیے بھرپور کوشاں نظر آتے ہیں ۔ ملک سعد بشیر اعوان نے ایک مرتبہ اعوان ہاوس پر پاکستان مسلم لیگ نون یوتھ ونگ سرگودھا ڈویژن کے رہنما ملک محمد خالد اعوان کی موجودگی میں راقم الحروف (راجہ نورالہی عاطف ) کے ساتھ ایک خصوصی نشست کے دوران بتایا تھا کہ ضلع خوشاب کی نوجوان نسل کی اجتماعی فلاح و بہبود اور ان میں اتحاد و یگانگت کی فضا پیدا کرنا میری اولین ترجیح ہے۔
اگر اس حوالے سے ان کی شخصیت کے کردارکا جائزہ لیاجاءے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ملک سعد بشیر اعوان نے ہمیشہ نوجوانوں کے لیے رہنمائی، حوصلہ افزائی اور قیادت کا کردار ادا کیا ہے۔ ان کا یہ یقین ہے کہ اگر نوجوانوں کو مواقع، تعلیم، اور رہنمائی فراہم کی جائے تو وہ دنیا میں کسی بھی میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔ وہ اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نوجوان صرف نوکری کے متلاشی نہ بنیں بلکہ اپنے اندر قائدانہ صلاحیتیں پیدا کریں، کیونکہ مستقبل انہی کا ہے جو خواب دیکھنے کے ساتھ انہیں حقیقت کا روپ دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو صرف تقاریر یا وعدوں کے ذریعے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے متاثر کرتے ہیں۔ موصوف اپنے والد محترم ممبر قومی اسمبلی ملک شاکر بشیر اعوان کی سرپرستی میں مختلف سماجی، تعلیمی اور فلاحی منصوبوں کے ذریعے وہ نئی نسل کو مثبت سمت میں لے کر جا رہے ہیں۔ وہ یوتھ ونگ کے تنظیمی تربیتی سیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو جدید دنیا کے تقاضوں سے آگاہ کرتے ہیں۔
ملک سعد بشیر اعوان اس بات کے قائل ہیں کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کا نوجوان طبقہ ہے۔ اگر اس طاقت کو منظم کیا جائے تو کوئی رکاوٹ ترقی کی راہ میں حائل نہیں رہ سکتی۔ وہ ہمیشہ اس نعرے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں:
“نوجوان جاگو، ملک سنوارو!”
ان کی جدوجہد صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں ان کے اقدامات ان کی سنجیدگی اور وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو ملک و ملت کے لیے استعمال کریں، کیونکہ ایک باہوش، باعمل اور باکردار نوجوان ہی پاکستان کا روشن مستقبل ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ملک سعد بشیر اعوان جیسے رہنما آج کے نوجوانوں کے لیے روشنی کے مینار ہیں۔ ان کا جذبہ، ان کی فکر، اور ان کی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت خالص ہو اور مقصد بلند، تو قوم کے نوجوان خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔
ملک سعد بشیر اعوان — واقعی یوتھ کی امنگوں کے سچے ترجمان ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی ا کی ذات والا صفات انہیں ہمیشہ شاد و آباد رکھے۔ آمین