اے قوم کے شہیدو! آپ کی عظمت کو سلام
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
جب کوئی قوم اپنے شہیدوں کو یاد رکھتی ہے تو دراصل وہ اپنے وجود اور تاریخ سے جڑی رہتی ہے۔ پاکستان کی سرزمین خوش نصیب ہے کہ اس کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اس مٹی کو دوام بخشا۔ یہ وہ مردانِ حق ہیں جنہوں نے مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جوانی، خواب اور خواہشات قربان کر دیں، مگر دشمن کے سامنے سر نہ جھکایا۔
آزادی کا یہ سبز پرچم، جس کی ہر لہر فضا میں سربلندی کی علامت ہے، دراصل شہیدوں کے لہو سے رنگین ہے۔ ان کے خون کی خوشبو آج بھی اس دھرتی کے ذرے ذرے میں محسوس ہوتی ہے۔ وہ جنہوں نے اپنی جان دی مگر وطن کی حرمت پر کوئی آنچ نہ آنے دی — وہی سچے محبِ وطن اور قوم کے حقیقی ہیرو ہیں۔
اے وطن کے شہیدو! تمہاری قربانیاں ہمارے ایمان کا حصہ ہیں۔ تم نے یہ ثابت کیا کہ وطن کی محبت صرف زبان کا نعرہ نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں سے اٹھنے والا عہد ہے۔ تم نے میدانِ جنگ میں بہادری، ایمان اور قربانی کی ایسی داستانیں رقم کیں جنہیں آنے والی نسلیں فخر سے یاد رکھیں گی۔
تمہارے لہو نے ہمیں یہ سبق دیا کہ جو قومیں اپنے شہیدوں کو یاد رکھتی ہیں وہ کبھی مر نہیں سکتیں۔ تم نے دکھایا کہ دفاعِ وطن محض ہتھیاروں کا. نام نہیں، بلکہ عزم و حوصلے کا معاملہ ہے۔ آج بھی جب ہم اپنے پرچم کو سربلند دیکھتے ہیں تو دل خودبخود تمہاری عظمت کے سامنے جھک جاتا ہے۔
شہید کی ماں جب اپنے بیٹے کی قربانی پر فخر کرتی ہے تو وہ دراصل پوری قوم کے وقار کی محافظ بن جاتی ہے۔ اس کے آنسو قوم کے لیے دعا بن جاتے ہیں، اس کا صبر ہماری قومی طاقت بن جاتا ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جس کی بدولت پاکستان آج بھی سر اٹھائے کھڑا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے شہداء کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ وطن کی تعمیر و ترقی، امن و اتحاد، اور انصاف و ایمان کی راہ پر چلیں — یہی ان کی قربانیوں کا تقاضا ہے۔
اے قوم کے شہیدو!
تمہاری عظمت کو سلام!
تمہاری قربانیاں اس قوم کے وجود کی ضمانت ہیں۔
تم زندہ ہو کیونکہ تم نے وطن کے لیے جان دی —
اور جو وطن کے لیے جان دیتا ہے، وہ کبھی نہیں مرتا۔