November 6, 2026

ایک عظیم استاد ، ایک محسن ، ایک بہترین انسان ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ چوہدری عبد الرحمن گجر صاحب ۔۔۔۔ ۔۔۔ گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول رینالہ خورد کا فخر ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔ پیر سید ندیم جعفری رینالہ خورد ۔

IMG-20240817-WA0122

۔۔۔۔۔۔ ایک عظیم استاد ، ایک محسن ، ایک بہترین انسان ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ چوہدری عبد الرحمن گجر صاحب ۔۔۔۔
۔۔۔ گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول رینالہ خورد کا فخر ۔۔۔۔
۔۔۔۔ تحریر ۔۔۔ پیر سید ندیم جعفری رینالہ خورد ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔زندگی کی بہت سی حقیقتوں سے روپوشی ممکن نہیں ۔ انسان کی زندگی کے خوبصورت لمحات اسکا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں ۔ کچھ شریں و تلخ یادیں سرمایہ عظیم ہوتی ہیں ۔ کچھ عمل ایسے ہوتے ہیں جن سے اپنی ماضی کی بہت سی یادیں اور کامیابیاں وابستہ ہوتی ہیں ۔ یہ ان خوبصورت ایام میں جب کو رہبر و راہنما اپکو کامیابی کی منازل طے کرنے میں معاون ثابت ہو ۔ جب آپ خالی برتن کی مانند ہو اور کوئی شخص اپنی محنت و لگن اور محنت شاقہ سے اس لب ریز کردے ۔ ایک خالی دماغ اسوقت ایک خالی برتن کی مانند ہوتا ہے ۔ اس برتن یا دماغ کو جو شخص بھرتا ہے وہ محسن کہلاتا ہے
۔۔۔ جب انسان کی پیدائش ہوتی ہے تو وہ اپنے بچپن میں اپنے والدین ، بڑوں ، اپنے پیاروں سے بہت کچھ سیکھتا ہے ۔ مگر جب وہ اس قابل ہوتا ہے کہ جب اس کو اپنی زندگی کی کامیابی کی منازل طے کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ تب اسکو ایک سہارے کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ رہبر و راہنما ایک معلم ہی ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ ایک کامیاب انسان کے پچھلے والدین سے زیادہ اگر کسی کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ تو وہ صرف استاد کا ہی ہے ۔ جو والدین کے بعد اپکو ایک کامیاب انسان دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے ۔ وہ اپکو ایک ایسی سیڑھی فراہم کرتا ہے جو اپکو آسمان کی بلندیوں پر لے جاتی ہے
۔۔۔۔ ایسا ہی ایک کردار ہمارے سامنے ہے ۔ جسکی سادگی ، محنت ، لگن ، ایمانداری نے لاتعداد کامیاب انسان بنائے ۔ انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی تمام توانائیاں اپنے شاگردوں کی نظر کردیں ۔ اس نے نے ہمیشہ خیر تقسیم کرتے ہوئے لازوال محبتوں کی داستانیں رقم کیں ۔ اس استاد کی بدولت آج دنیا کے بہت سے کونوں میں انکا زندہ جاوید ہے ۔ میری نظر میں ایسے اساتذہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہونگے ۔ جس ہستی کو احاطہ تحریر میں لا رہا ہوں ۔وہ ہمارے عظیم استاد چوھدری عبد الرحمن گجر ہیں ۔
۔۔۔۔ چوہدری عبد الرحمن گجر صاحب 1939میں تحصیل گڑھ شکر ضلع ہوشیار انڈیا میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم 74 فور آر میں حاصل کی۔ انکے والد علی محمد صاحب تھے جو ایک معروف معلم تھے ۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہاں صوبہ رام دیپالپور گورنمنٹ پرائمری سکول دیپالپور آگئے۔ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول دیپالپور سے میٹرک پاس کیا ۔ بعد میں ایس وی ملتان سے جبکہ جے وی چنیوٹ سے مکمل کی ۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد 1961 گورنمنٹ پرائمری سکول ون ون ایل رینالہ خورد جس کے بعد 1967 گورنمنٹ پرائمری سکول سٹی رینالہ خورد جو بعد میں گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول بنا ۔ جہاں آپ بطور ایس وی ٹیچر لاہور سائیڈ رینالہ خورد چک نمبر گیارہ ون اے ایل آخر آباد منتقل ہوگئے ۔ یہاں پر 14 ایکٹر رقبہ کاشت کررہے ہیں ۔ استاد جی کے 2 بیٹے 7 بیٹیاں ہیں ۔ اسوقت 84 سال کی عمر ہوچکی ہیں ۔ الحمدللہ رب العالمین ویسے تو بظاہر صحت مند دیکھائی دیتے ہیں ۔ مگر نظر کم ہونے سے پہچان بھی کم ہوگئی ہے ۔ گفتگو اسی انداز میں ہوتی ہے ۔ استاد محترم کو جب یاد دلایا کہ آپ لفظ ” بھونتنی دا ” بہت بولتے تھے ۔ تو وہ مسکرانا شروع کردیا ۔ جب ان سے ذکر کیا کہ اپکو غصہ بہت آتا تھا مگر مارتے کم تھے تو کہتے ہیں کہ کاکا ” مارے نال ڈریا چنگا ” جس پر میں بھی مسکرایا ۔ میں نے ایک سوال پوچھا کہ یہ پچھلے دور میں مار ختم کرکے ایک نعرہ دیا گیا ” مار نہیں پیار ” تو فرماتے ہیں کہ اس سے بچوں میں ڈر کے ساتھ ساتھ کامیابی میں بھی کمی آئی ہے
۔۔۔ چوہدری عبد الرحمن گجر صاحب جیسے استاد ناپید ہوگئے ۔ اسوقت اور آج کے اساتذہ میں یہی فرق ہے۔ کہ اسوقت احساس زمہ داری ، اپنا پن ، محنت ، سچی لگن اور ایمانداری بہت زیادہ تھی ۔ اب زیادہ تر ادارے ، اساتذہ بھی پروفشنل ہوگئے ہیں۔ پہلے نہ چھٹی کی جلدی تھی اور نہ ہی چھٹی کرنے کا رواج تھا ۔ مگر اب جو ہے وہ کلئیر اینڈ کرسٹل ہے ۔ پہلے اساتذہ کی لازوال محبتوں کا ذکر ہوتا تھا ۔ مگر ایسے اساتذہ ناپید ہوگئے ہیں ۔ اگر کچھ ہیں تو وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔اب زیادہ تر ادارے اور اساتذہ سوشل میڈیا پر موٹیویشنل سپیکر ، ایکٹوسٹ ، بہت بڑے مبلغ نظر آہیں گے ۔ مگر اسکے برعکس حقیقت کچھ اور ہوگئی ۔ اس سائنسی و کمپیوٹر دور میں ابھی بھی ایسے اساتذہ موجود ہیں جو سخت سردی و گرمی میں بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنا فرض اولین پورا کرنے میں مصروف ہیں ۔ دراصل ایسے اساتذہ ہی ہمارے ماتھے کا جھومر تصور ہوتے ہیں ۔۔۔۔
۔۔۔ پیر سید ندیم جعفری رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ ۔۔۔