عنوان. ہم سب رہن رکھے جا چکے ہیں کالم نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
عنوان. ہم سب رہن رکھے جا چکے ہیں
کالم نگار. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
پچیس کروڑ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا جم غفیر. انسانوں کی بھیڑ میں گم ہوتے ہوے انسان. روتے ہنستے ہوے انسان ،خوشیوں کے جھولے جھولتے ہوے انسان،غم کی دلدل میں پاوں سے لے کر سر تک پھنسے ہوے انسان، روتے بلکتے ہوے انسان،خوابوں کو آنکھوں میں سجاتے ہوے لوگوں کا ہجوم، اپنے دیکھے ہوے خوابوں کے ٹوٹ جانے پہ ان ٹوٹے ہوے خوابوں کی کرچیاں سمیٹ کے بے آواز رونے والوں کا ہجوم، بھوک کی اذیت سے رونے والوں کا ہجوم، تنکا تنکا جوڑ کے سسک سسک کے تعلیمی مدارج طے کرنے والوں کا ہجوم بھوک کو سلا کے تعلیمی مدارج طے کر نے والوں کا ہجوم. اور پھر نوکریاں من پسند لوگوں میں بٹتی دیکھ کے بے بسی سے کڑھنے والوں کا ہجوم، رشوت کے گرم بازار میں اپنے کام نہ ہونے اور کام ادھورے رہ جانے
والوں کا ہجوم، بریانی کھانے اور صرف بریانی کی خوشبو سونگھ کے صبر کر لینے والوں کی بے بسی کا ہجوم، نیے نیے کپڑے پہن کے اترانے والوں کا ہجوم اور لوگوں کی اترن پہن کے صبر کے گھونٹ پینے والوں کا ہجوم،
ہجوم
اک ہجوم بے کراں
اک رواج بے بسی
آنچل صبر و رضا
ہیں اندھیروں میں ضیاء
میرا آفس پہلی منزل پہ واقع ہے ٹھنڈی اور تازہ ہوا میرے آفس کی واشگاف کھڑکی سے آتی ہے تو مجھے جینے کا احساس دلاتی ہے سردیوں کی خنکی اور چمکدار دھوپ مجھے ایک خوشگوار حیرت میں مگن رکھتی ہے اور مجھے اپنے اس شعر سے محبت بھی اسی سرما کی دھوپ جیسی ہی ہے.
میسر دھوپ ہو سرما کی دلبر
نشیلی رت کی اک برکھا بہت ہے
اور برکھا کی پون کے نظارے اپنی اسی کھڑکی سے میری روح کی روانی ہیں مگر اسی کھڑکی سے رواں ٹریفک آتے جاتے پھیری والے، سردیوں میں چپس، گرما گرما مونگ پھلیاں، ڈرای فروٹ، لڈو پٹھیوں والے، گرما گرما پکوڑے، پٹھورے اور شفاف شیشے کے جارز میں رنگ برنگی مچھلیوں کے نظارے اور موسم گرما میں ٹھنڈی ٹھار قلفیاں، رنگ برنگے برف کے گولے، املی آلو بخارے کے مشروبات، میٹھی گنڈیریاں اور رو کے شربت سب مزہ دیتے ہیں اگر تکلیف ہوتی ہے تو اپنے آفس سے ملحقہ اس بڑے پرائیویٹ سکول سے جس میں جب چھٹی کی گھنٹی بجتی ہے تو میری آنکھیں حیرت سے نم ناک ہو جاتی ہیں کہ اتنے چھوٹے سے سکول میں ہزاروں بچوں کا ایک ہجوم کیسے سما گیا جونہی چھٹی کی گھنٹی بجی بچے کسی بپھرے ہوے سیلابی ریلے کی مانند چہار سو امڈ آتے ہیں اور چلتی ہوی ٹریفک اور بھاگتی دوڑتی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیتے ہیں.
بالکل اسی بپھرے ہوے سیل بے کراں کی مانند ملک خداداد کی سڑکوں پہ بھی ایک ہجوم بے کراں ہے آپ نادرا یا پاسپورٹ کے دفاتر میں چلے جائیں بالکل ایسا ہی ہجوم بے کراں وہاں بھی آپ کا منہ چڑا رہا ہو گا. آپ ہسپتالوں، دوکانوں، سیر گاہوں، مزاروں، غرض جہاں بھی تشریف لے جائیں آپ اسی ہجوم بے کراں کا سامنا کریں گے. اور حیرت کی بات ہے کہ اس ریوڑ کو اس بات کی کچھ فکر نہیں کہ ان کے رہن سہن، تعلیم و تربیت، کھانے پینے، علاج معالجے، روزی روٹی، ذریعہ معاش کے مسائل کون حل کرے گا بھوکے کو روٹی کون کھلاے گا، پیاسے کو پانی کون پلاے گا، بیمار کا علاج کون کرواے گا، بچوں کو تعلیم و تربیت کے بعد نوکریاں کون دلواے گا کون ہو گا جو معاشرے میں اونچ نیچ کے پھڈے ختم کروا کے انصاف قائم کرے گا کیا وہ کسی دوسری دنیا کا باسی ہو گا کوی زور آور جن یا آسیب ہو گا جو چھو منتر کر کے ہمارے سارے مسائل کا حل پیش کر دے گا جو ہماری ڈوبی ہوی نیا کو پار لگا دے گا.
ہم نے اپنی جہالت کی انتہا ہی کر دی دو بچوں کا نعرہ لگاتے لگاتے ہر خاندان نے بچوں کی ایک فوج تیار کر لی جیسے ہمیں اس فوج کے ہاتھوں اپنے دشمن کو زیر کرنا ہے اور آبادی کے اس پہاڑ کے پاس نہ شعور ہے نہ تعلیم ہے نہ کوئی ایجنڈ ہے اور نہ ہی صراط مستقیم بس کنویں کے بیل کی مانند اس قوم کو بس ایک ہی بات یاد ہے کہ کنویں کے گرد گول گول چکر لگا کے ایک نکمے ہجوم میں اضافہ در اضافہ کرنا ہے اور رل گیے فلسطینی جہاں ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے اس ہجوم بے کراں میں سے کوئی ایک بھی ساتھ کھڑے ہونے سے قاصر و لاغر ہے تو پھر کیا فائدہ اس ہجوم کے ہجوم کا ہماری روحوں کو ہمارے جسموں سے نکال کے ہمیں رہن رکھا جا چکا ہے. ہم. سب بکاو ہیں. ہم سب رہن رکھے جا چکے اجسام پہ رب کعبہ کے خصوصی کرم کی دعا ہے آمین ثم آمین
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com