*ٹائٹل: بیدار ہونے تک* *عنوان: دربارِ یزید میں حضرت سیدہ زینبؓ کا تاریخ ساز خطبہ* *کالمکار: جاوید صدیقی*
*ٹائٹل: بیدار ہونے تک*
*عنوان: دربارِ یزید میں حضرت سیدہ زینبؓ کا تاریخ ساز خطبہ*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
تاریخِ اسلام کا ایک ایسا دل خراش اور لرزہ خیز باب ہے جسے پڑھتے ہوئے انسان کا دل غم سے بھر جاتا ہے، مگر اسی تاریخ میں ایک ایسی عظیم خاتون کی جرأت، استقامت اور حق گوئی بھی روشن نظر آتی ہے جس نے کربلا کے میدان میں اپنے خاندان کے افراد کی شہادت، بچوں کی مظلومیت اور اہلِ بیتؓ کی اسیری کے باوجود باطل کے ایوانوں میں حق کی آواز بلند کی۔ یہ عظیم ہستی رسول اللہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نواسی، حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت فاطمۃ الزہراءؓ کی صاحبزادی، حضرت سیدہ زینب بنتِ علیؓ ہیں۔ یہاں ایک تاریخی وضاحت ضروری ہے کہ دربارِ یزید میں حضرت زینبؓ کے خطاب کو بعض تحریروں میں ان کا ’’آخری خطبہ‘‘ کہا جاتا ہے، تاہم قدیم تاریخی مآخذ اسے ان کا آخری خطبہ قرار دینے کی قطعی تصدیق نہیں کرتے۔ اس لیے اس کالم میں اسے دربارِ یزید کا تاریخ ساز خطبہ قرار دیا گیا ہے۔
*کربلا سے دربارِ یزید تک*
سن 61 ہجری میں میدانِ کربلا میں حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقا کی شہادت کے بعد اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر پہلے کوفہ اور پھر دمشق لے جایا گیا۔ یہ محض ایک خاندان کا المیہ نہیں تھا بلکہ امتِ مسلمہ کے ضمیر، عدل، حکمرانی اور انسانی حرمت کے لیے ایک عظیم آزمائش تھی۔ روایات کے مطابق جب اہلِ بیتؓ کو یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو حضرت امام حسینؓ کا سرِ مبارک بھی وہاں موجود تھا۔ بعض تاریخی روایات میں یزید کے سامنے اشعار پڑھنے اور عصا سے امام حسینؓ کے دندانِ مبارک کو چھونے یا چھیڑنے کا ذکر ملتا ہے۔ اسی منظر کے بعد حضرت زینبؓ نے وہ تاریخی خطاب کیا جس نے اقتدار کے ایوانوں میں حق کی گونج پیدا کردی۔
*حضرت زینبؓ کا بے مثال خطاب*
حضرت زینبؓ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام کے بعد یزید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، جس کا مفہوم قدیم روایات میں یوں نقل ہوا ہے:’’اے یزید! کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ تو نے ہمارے لیے زمین کے راستے تنگ کردیے، ہمیں قیدی بنا کر ایک شہر سے دوسرے شہر لے گیا، تو ہم اللہ کے نزدیک ذلیل ہوگئے اور تو اس کے نزدیک معزز ہوگیا؟ کیا تو اپنی ظاہری کامیابی پر مغرور ہے؟‘ ‘پھر آپؓ نے قرآن مجید کی اس آیت کی طرف توجہ دلائی ۔۔ ترجمہ: اور کافر یہ ہرگز نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں مہلت دے رہے ہیں، یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ ہم تو انہیں اس لیے مہلت دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں اور بڑھ جائیں، اور ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ (سورۃ آل عمران، آیت 178) یہاں حضرت زینبؓ کا پیغام انتہائی واضح تھا کہ اقتدار، مال، طاقت اور وقتی کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا اور کسی انسان کی حقانیت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ ظالم کو ملنے والی مہلت اس کی کامیابی نہیں بلکہ اس کے لیے آزمائش بھی ہوسکتی ہے۔ ’’اے ابنِ طلقاء! کیا یہی تیرا انصاف ہے؟‘‘ خطاب کا ایک نہایت اہم حصہ وہ ہے جس میں حضرت زینبؓ نے یزید کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: أَمِنَ الْعَدْلِ يَا ابْنَ الطُّلَقَاءِ؟ ترجمہ: اے آزاد کردہ لوگوں کی اولاد! کیا یہی تیرا انصاف ہے؟ اس فقرے میں حضرت زینبؓ نے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے فتح مکہ کے موقع پر معاف کیے گئے لوگوں کے تاریخی پس منظر کی طرف اشارہ کیا۔ آپؓ نے سوال اٹھایا کہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹیوں اور اہلِ بیت کی خواتین کو اس حال میں قیدی بنا کر پھرایا جانا کہاں کا انصاف ہے؟ آپؓ نے اس خطاب میں خواتینِ اہلِ بیت کی بے حرمتی، ان کی بے بسی اور ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو اقتدار کے سامنے ایک ناقابلِ فراموش سوال بنا دیا۔
*ظالم کی وقتی کامیابی، حق کی دائمی شکست نہیں*
حضرت زینبؓ کے خطاب کا ایک مشہور حصہ یہ ہے: فَوَاللّٰهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا، وَلَا تُمِيتُ وَحْيَنَا، وَلَا تُدْرِكُ أَمَدَنَا۔مفہوم: اللہ کی قسم! تو ہمارے ذکر کو مٹا نہیں سکتا، ہماری نسبت اور ہمارے پیغام کو ختم نہیں کرسکتا اور ہماری منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہ الفاظ محض ایک تاریخی احتجاج نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک ابدی اصول کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ظالم طاقت کے ذریعے انسانوں کو خاموش کرسکتا ہے، مگر حق کی آواز کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کرسکتا۔ حضرت زینبؓ نے یزید کے اقتدار کو دائمی نہیں سمجھا اور نہ ہی اپنی اسیری کو اپنی شکست تسلیم کیا۔ انہوں نے اپنے طرزِ خطاب سے واضح کردیا کہ اصل عظمت اقتدار کے تخت پر بیٹھنے میں نہیں بلکہ حق کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔
*قرآن مجید کا اصول: ظالم کے خلاف انصاف کی گواہی*
حضرت زینبؓ کے اس تاریخی موقف کو قرآن مجید کی ان تعلیمات کے تناظر میں بھی سمجھنا چاہیے:
1۔ عدل پر قائم رہنے کا حکم
ترجمہ: اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، خواہ وہ گواہی خود تمہارے، تمہارے والدین یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ (سورۃ النساء، آیت 135)
2۔ دشمنی بھی انصاف سے نہ ہٹائے
ترجمہ: کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔(سورۃ المائدہ، آیت 8)
3۔ ظالموں کی طرف مائل ہونے سے ممانعت
ترجمہ: اور ان لوگوں کی طرف نہ جھکو جنہوں نے ظلم کیا، ورنہ تمہیں آگ آ پکڑے گی۔ (سورۃ ہود، آیت 113) یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ اسلام میں عدل، حق گوئی اور ظلم سے انکار محض اختیاری خوبیاں نہیں بلکہ دینی ذمہ داریاں ہیں۔
*رسول اللہ ﷺ کی تعلیم اور حق گوئی*
رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے: أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ۔ ترجمہ: افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے انصاف کی بات کہنا ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، حدیث 4344؛ جامع ترمذی، حدیث 2174) یہ حدیث ہمیں سمجھاتی ہے کہ حق گوئی کا مقام کتنا بلند ہے، خصوصاً اس وقت جب انسان کو کسی طاقتور کے سامنے سچ بولنے کی قیمت ادا کرنا پڑے۔
*عصرِ حاضر کے حکمرانوں کے لیے پیغام*
1حضرت سیدہ زینبؓ کا دربارِ یزید میں خطاب آج بھی ہر اس معاشرے اور حکمران کے لیے ایک آئینہ ہے جہاں طاقت کو انصاف سے، اقتدار کو جواب دہی سے اور سرکاری منصب کو عوامی امانت سے بالاتر سمجھ لیا گیا ہو۔آج مسلم دنیا میں حکمرانوں، سیاست دانوں، ریاستی اداروں، اہلِ اقتدار اور عوام سب کو اپنے اپنے کردار کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ کیا ہمارے معاشروں میں انصاف طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں ہے؟ کیا مظلوم کو آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے؟ کیا صحافت آزاد ہے؟ کیا حق لکھنے اور سچ بولنے والے کو تحفظ حاصل ہے؟ کیا عوامی وسائل کو امانت سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے؟ اگر ان سوالات کے جوابات منفی ہیں تو ہمیں اپنی دینی اور اخلاقی ترجیحات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ یہ بھی یاد رھے کہ حضرت زینبؓ کے کردار کو صرف ایک تاریخی واقعے تک محدود کردینا ان کی عظمت کا حق ادا نہیں کرتا۔ ان کی زندگی صبر، عبادت، علم، شجاعت، وقار اور حق کی پاسداری کا عملی نمونہ ہے۔ جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی کا کہنا ھے کہ کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ حق کے راستے میں جان قربان ہوسکتی ہے، مگر حق کی اہمیت ختم نہیں ہوتی۔ حضرت امام حسینؓ نے میدانِ کربلا میں اپنے کردار سے اور حضرت سیدہ زینبؓ نے دربارِ یزید میں اپنی حق گوئی سے تاریخ کو یہ پیغام دیا کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا ہمیشہ حکمت نہیں ہوتی؛ بعض اوقات حق کی آواز بلند کرنا ہی سب سے بڑی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ ہمیں اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت کے دعوے کے ساتھ ان کے کردار، تعلیمات، صبر، عدل، سچائی اور جرأت کو بھی اپنی عملی زندگی میں جگہ دینی ہوگی۔ محض عقیدت کے نعرے نہیں، بلکہ کردار کی اصلاح، ظلم سے نفرت، مظلوم کی حمایت اور انصاف کے قیام کی جدوجہد ضروری ہے۔ یاد رکھیے! اقتدار عارضی ہے، ظلم کا انجام عبرت ہے، مگر حق کی آواز تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے، باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین