“اسٹیبل کوائن: پاکستان کے لیے موقع یا خطرہ؟”
دنیا کی معیشت ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ پیسہ جو کبھی صرف سکے اور نوٹوں کی صورت میں سمجھا جاتا تھا، اب اسکرین پر اعداد و شمار اور ڈیجیٹل کوڈز میں ڈھل چکا ہے۔ بینکاری کی وہ روایتی شکل جسے ہم صدیوں سے جانتے ہیں، اب نئی ٹیکنالوجی کے دباؤ میں ہے۔ اسی دباؤ نے ابھی حال ہی میں ایک حیران کن خبر کو جنم دیا۔ ویزا جیسی عالمی سطح پر ادائیگیوں کی سب سے بڑی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ سرحد پار ادائیگیوں میں اب اسٹیبل کوائنز کا استعمال آزمانے جا رہی ہے۔ یہ کوئی معمولی قدم نہیں، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ کرپٹو کرنسی کا وہ پہلو جو آج تک شک و شبہات میں گھرا رہا، اب دنیا کے سب سے معتبر مالیاتی اداروں کے دروازے پر دستک دے چکا ہے۔
امریکہ میں منظور ہونے والا جینیس ایکٹ اس کھیل کا رخ بدلنے والا لمحہ تھا۔ اس سے پہلے بڑے ادارے کرپٹو کرنسی کے استعمال پر ہچکچاتے تھے، کسی کو اعتماد نہیں تھا کہ حکومت اس کے پیچھے کھڑی ہوگی یا نہیں۔ لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے۔ جب امریکہ نے اسٹیبل کوائنز کے لیے واضح قوانین وضع کر دیے، تو بڑی کمپنیوں نے بھی سوچا کہ اگر اب بھی پیچھے رہ گئے تو دنیا بدل جائے گی اور وہ پرانے وقتوں میں قید رہ جائیں گے۔ ویزا کے سربراہ نے صحیح کہا کہ اس قانون نے سب کچھ جائز اور قانونی بنا دیا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہم جیسے عام لوگوں کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ ایک مزدور جو سعودی عرب یا دبئی میں محنت کرتا ہے اور مہینے کے آخر میں پانچ سو ڈالر اپنے گھر بھیجتا ہے، اسے آج بھی کٹوتی اور تاخیر کا سامنا ہے۔ کبھی رقم پہنچنے میں تین دن لگ جاتے ہیں، کبھی مقامی بینک بڑی فیس کاٹ لیتے ہیں۔ اسٹیبل کوائنز اگر اس نظام میں شامل ہو گئے تو یہی رقم سیکنڈوں میں پاکستان پہنچ سکتی ہے، وہ بھی نہایت کم لاگت پر۔ یہ صرف ایک مزدور کا مسئلہ نہیں، لاکھوں پاکستانیوں کا روز کا درد ہے۔ ترسیلات زر ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اربوں ڈالر سالانہ ان کی بدولت پاکستان آتے ہیں۔ لیکن اسی نظام کی پیچیدگیاں لوگوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ غیر قانونی ہنڈی حوالہ کے ذریعے پیسے بھجوانے پر مجبور ہو جائیں۔
پاکستانی بینکوں کے لیے یہ ایک کھلی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر ویزا اور دیگر ادارے اسٹیبل کوائنز کے ذریعے تیز تر اور سستی سہولت دینے لگیں تو مقامی بینک کہاں کھڑے ہوں گے؟ ان کا وہ بزنس ماڈل، جو سستے کام کے بدلے مہنگی فیس وصول کرنے پر قائم ہے، زمین بوس ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ریجنل بینک سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ ماہرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر اسٹیبل کوائنز تیزی سے عام ہو گئے تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے بینک اپنے وجود کے لیے لڑتے نظر آئیں گے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کرے۔ ابھی تک کرپٹو کرنسی کے معاملے میں ہمارا رویہ الجھا ہوا رہا ہے۔ کبھی پابندی کی بات، کبھی ریگولیشنز کا وعدہ، لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر۔ اگر ہم اب بھی خاموش رہے تو یہ ٹیکنالوجی پاکستان کے عوام تک پہنچنے میں دیر ضرور کرے گی، لیکن پھر بھی پہنچے گی۔ اور جب یہ غیر منظم انداز میں آئے گی تو اس کے ساتھ دھوکہ دہی، سائبر کرائم اور جعلسازی کے امکانات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک ابھی سے پالیسیاں بنائیں، ضابطے طے کریں، اور اس ٹیکنالوجی کو ایک باضابطہ نظام کے تحت عوام کے لیے کھول دیں۔
اصل فائدہ عوام کو ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پیسے بھیجنے میں آسانی ہوگی، چھوٹے کاروباری حضرات جو چین، دبئی یا ترکی سے مال منگواتے ہیں، ان کے لین دین تیز ہو جائیں گے، اور عام صارف کو بھی آن لائن شاپنگ میں کم خرچ اور محفوظ سہولت میسر آئے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ خطرات بھی کم نہیں۔ دنیا بھر میں کرپٹو کے نام پر اربوں ڈالر کا فراڈ ہو چکا ہے۔ پاکستان جیسا ملک جہاں لوگ پہلے ہی جعلی ایپس اور فراڈ اسکیموں کا شکار ہو چکے ہیں، وہاں یہ خطرہ دوگنا بڑھ سکتا ہے۔
کہانی کا حاصل یہ ہے کہ ویزا کا اعلان کوئی عام اعلان نہیں، یہ مستقبل کی ایک جھلک ہے۔ اگر دنیا کے سب سے بڑے ادارے اسٹیبل کوائنز کو گلے لگا رہے ہیں تو پاکستان کے لیے یہ لمحہ سوچنے کا ہے کہ ہم اس تبدیلی کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا پھر ہمیشہ کی طرح پیچھے رہ جائیں گے۔ فیصلہ ہمارے اداروں کے ہاتھ میں ہے۔ عوام کے لیے یہ خوشخبری بھی ہو سکتی ہے اور اندیشہ بھی۔ خوشخبری اس لیے کہ ترسیلات زر تیز اور سستی ہو جائیں گی، اندیشہ اس لیے کہ اگر ہم نے اس کو منظم نہ کیا تو دھوکہ بازوں کے لیے یہ نیا کھیل بن جائے گا۔
@@@@@@@@@@@@@@