ڈاکوؤں کی دیدہ دلیری عروج پر
موٹروے M-5 سے جدید کیمرے، سولر پینلز اور قیمتی سامان بھی محفوظ نہ رہ سکا
سکھر تا رحیم یار خان 200 کلومیٹر حصے میں سیکیورٹی و نگرانی کا نظام تباہ، کروڑوں کا نقصان
تاحال کوئی مؤثر کارروائی نہ ہو سکی، شہریوں میں شدید تشویش
سکھر(بیورورپورٹ)سکھر/رحیم یار خان: موٹروے ایم-5 (سکھر تا ملتان) پر ڈاکوؤں کی دیدہ دلیری خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں سکھر سے رحیم یار خان تک تقریباً 200 کلومیٹر کے طویل حصے میں نصب جدید نگرانی اور سیکیورٹی نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق موٹروے پر نصب قیمتی کیمرے، ریفلیکٹرز، سولر پینلز اور دیگر جدید آلات یا تو چوری ہو چکے ہیں یا خراب پڑے ہیں، جس کے باعث کروڑوں روپے مالیت کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ تاحال کسی مؤثر کارروائی کی اطلاع سامنے نہیں آ سکی۔ذرائع کے مطابق موٹروے ایم-5 کے اس اہم سیکشن میں نگرانی کے لیے تقریباً 271 جدید کیمرے نصب کیے گئے تھے، جن کا مقصد سیکیورٹی نظام کو بہتر بنانا، ٹریفک کی مانیٹرنگ اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی فوری نشاندہی کرنا تھا۔ تاہم اب کئی مقامات پر کیمرے غائب، سولر پلیٹس اور پینلز اتار لیے گئے، جبکہ متعدد جگہوں پر لائٹس اور دیگر ضروری آلات بھی چوری یا ناکارہ ہو چکے ہیں۔علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچے کے علاقوں میں سرگرم ڈاکوؤں کی کارروائیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ انہوں نے موٹروے جیسے اہم اور حساس منصوبے کو بھی نہیں بخشا۔ ڈاکو دندناتے ہوئے موٹروے کے حفاظتی نظام کو نشانہ بنا رہے ہیں اور جدید قیمتی آلات باقاعدہ اتار کر لے جا رہے ہیں، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کس قدر منظم اور طاقتور ہو چکے ہیں۔موٹروے پولیس اور متعلقہ اداروں کے لیے یہ صورتحال نہ صرف ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے بلکہ شہریوں اور مسافروں میں بھی شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق نگرانی کے نظام کے متاثر ہونے سے نہ صرف جرائم کی روک تھام مشکل ہو گئی ہے بلکہ حادثات، اوور اسپیڈنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ متعدد مقامات پر سولر لائٹس کے ناکارہ ہونے کے باعث رات کے وقت موٹروے پر اندھیرا چھا جاتا ہے، جس سے حادثات کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
2016 میں مکمل ہونے والا منصوبہ سوالیہ نشان بن گیا۔واضح رہے کہ موٹروے ایم-5 کا یہ اہم منصوبہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا اور یہ منصوبہ 2016 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں مکمل ہوا تھا۔ تاہم چند سالوں میں ہی جدید نگرانی اور حفاظتی نظام کی تباہ حالی حکومتی کارکردگی اور اداروں کی نگرانی پر بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔شہریوں اور مسافروں نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا جائے، چوری میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے اور موٹروے پر جدید نگرانی کا نظام بحال کیا جائے تاکہ قومی اثاثے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو موٹروے ایم-5 جیسے اہم منصوبے کی سیکیورٹی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی، جس سے نہ صرف قومی خزانے کو مزید نقصان پہنچے گا بلکہ مسافروں کی جان و مال بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔عوامی حلقوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی چوری اور تباہی کے باوجود تاحال کوئی واضح اور مؤثر کارروائی سامنے نہ آنا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات کو جنم دے رہا ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ موٹروے پر سیکیورٹی بڑھائی جائے، گشت کے نظام کو فعال کیا جائے اور نگرانی کے لیے جدید آلات فوری طور پر دوبارہ نصب کیے جائیں تاکہ موٹروے ایم-5 کو جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ بنایا جا سکے۔