اک دیا جل رہا ہے تحریر سید بدر سعید
اک دیا جل رہا ہے
تحریر
سید بدر سعید
قلم فاؤنڈیشن کے روح رواں علامہ عبد الستار عاصم اور فاروق عزمی صاحب پر حیرت ہوتی ہے ۔ کبھی کبھی لگتا ہے یہ وہ عفریت ہیں جو اردو بازار کے کاروبار کو کھا جائیں گے ۔ ہر مشہور اور ہر بڑے بندے کی کتب چھاپ رہے ہیں ۔اچھی کتب اور نامور لوگ ایک ہی پبلشر “جوگے” ہو جائیں تو باقی لوگ کیا کام کریں گے ؟
کتب کا معیار بھی ان پر ختم ہے ، ہلکے معیار کا نہ کاغذ استعمال کرتے ہیں اور نہ پریزنٹیشن غیر معیاری کافی ہے ۔ لائبریریز ، مصنفین اور کتاب سے محبت کرنے والوں سے جڑے رہتے ہیں ۔ مجھ پر خصوصی شفقت ہے کہ ہر اچھی کتاب مجھے تحفتاً بھیجتے ہیں یعنی شکر خورے کو شکر مسلسل مل رہی ہے ۔
اب ان کی جانب سے اوریا مقبول جان کا شعری مجموعہ موصول ہوا ہے ۔ اک دیا جل رہا تھا حوالات میں ، معروف کالم نگار اوریا مقبول جان کی شاعری ہے ۔ جس میں دوران وید لکھی گئی نظمیں اور غزلیں بھی شامل ہیں
کتاب کے پیش لفظ سے پتا لگتا ہے کہ اوریا صاحب نے لو میرج کی تھی لیکن شادی کے فورا بعد ہی ان کی توقعات کے گھروندے مسمار ہو گئے پھر انہیں عمر بھر سچی محبت نہ مل سکی اور وہ اس وادی خار زار میں نشانہ لب بھٹکتے رہے ۔ یہ پیش لفظ انہوں نے اپنی زندگی کے سفر پر لکھا ہے
پڑھ کر اچھا لگا کہ اوریا مقبول جان کے باطنی حالات بھی اپنے سے اچھے نہیں ہیں ۔
اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ایف آئی اے کی قید کے دوران بھی اوریا مقبول جان کو کاغذ قلم دستیاب تھا اور وہ حوالات میں شعر کہتے رہے ۔ کیمپ جیل میں تو خیر یہ چیزیں مل ہی جاتی ہیں ۔۔۔بہرحال شاعری اچھی ہے ، عشقیہ اور مزاحمتی دونوں رنگ ہیں
قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی یہ کاوش شاندار رہی ۔آج کے دور میں کتاب کلچر کو قابل منافع کاروبار بنانا یا کم از کم ظاہر کرنا ان جیسے سرپھروں کا ہی کمال ہے
سید بدر سعید