ارشد ندیم 2012 سے لے کر 2018 تک دھکے کھاتا رہا۔ کبھی سپورٹس بورڈ تو کبھی صوبائی وزیروں کے چکر لگاتا رہا لیکن کبھی کسی نے لفٹ نہ کرائی۔ ارشد ندیم کی کسی اعلی عہدیدار سے پہلی ملاقات عمران خان کے دور میں ہوئی جب اسے وزیراعلی بزدار نے بلایا اور چیک دیا۔
ارشد ندیم 2012 سے لے کر 2018 تک دھکے کھاتا رہا۔ کبھی سپورٹس بورڈ تو کبھی صوبائی وزیروں کے چکر لگاتا رہا لیکن کبھی کسی نے لفٹ نہ کرائی۔ ارشد ندیم کی کسی اعلی عہدیدار سے پہلی ملاقات عمران خان کے دور میں ہوئی جب اسے وزیراعلی بزدار نے بلایا اور چیک دیا۔
اس کے بعد مسلسل وہ اعلی حکام سے رابطے میں رہا اور وقتاً فوقتاً اعزازوکرام سے نوازا جاتا رہا۔ وزیراعلی پرویزالہی نے اسے بیس لاکھ کا چیک دیا اور وہ بھی تصویر اس نے اپنے اکاؤنٹ سے شئیر کی۔ پھر صدرعلوی نے خصوصی طور پر اسے ایوان صدر بلایا اور انعامات سے نوازا۔ اس کی کلپ بھی ارشدندیم کے اکاؤنٹ پر موجود ہے۔ پھر جب فنڈریزنگ کا ایونٹ ہوا تو عمران خان نے اسے خصوصی طور پر بلایا۔