پچیس اگست 1947 — ایک دن جو تاریخ کے سینے پر دُکھ، امید اور حقیقت کی سیاہی سے رقم ہوا
پچیس اگست 1947 — ایک دن جو تاریخ کے سینے پر دُکھ، امید اور حقیقت کی سیاہی سے رقم ہوا
صبح کا سورج جب نئی مملکت کے اُفق پر چمکا، تو ایک خاموشی تھی، جو چیخوں کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ ہواؤں میں خون کی بو ہلکی پڑ چکی تھی مگر فضا میں بے یقینی اب بھی تیر رہی تھی۔ گھروں کی چھتوں پر سفید کپڑے لہرارہے تھے، جن پر سبز ہلالی نشان ہاتھ سے بنائے گئے تھے۔ لیکن ان کپڑوں پر کئی جگہ خون کے دھبے بھی تھے — شاید اُس ماں کے بچے کے، جو کل شام امرتسر سے آئی تھی اور راستے میں گُم ہو گیا۔
لاہور کے اسٹیشن پر آج پھر دو گاڑیاں آئیں — ایک کراچی کی طرف سے، اور ایک دہلی سے۔ دہلی سے آنے والی گاڑی خالی آنی چاہیے تھی، لیکن اس میں کچھ لاشیں تھیں اور کچھ نیم مردہ لوگ، جنہوں نے درندگی دیکھی تھی، جن کے جسموں پر کپڑے تو تھے، مگر روحوں پر نہیں۔ ہر مسافر ایک کہانی تھا، اور ہر کہانی میں لہو تھا۔
ایک منظر: ریفیوجی کیمپ میں بیٹھا چھوٹا لڑکا، جس کا چہرہ دھول میں چھپا تھا اور آنکھیں کسی بہت بڑے سوال میں گم — “امی کہاں ہیں؟” کوئی جواب نہ تھا۔ خیموں کے بیچ سے گزرتی ایک خاتون، ہاتھ میں دو روٹیاں اور ایک لوٹے میں پانی لیے، ہر جھونپڑی کے اندر جھانک رہی تھی — شاید اپنے بھائی کو ڈھونڈ رہی تھی۔
دوسری طرف: کراچی میں، کچھ فلیگ مارچ ہو رہے تھے۔ مہاجرین کے لیے اسکولوں، مساجد اور خالی مکانوں کو پناہ گاہوں میں بدلا جا رہا تھا۔ لیاقت علی خان نے گورنر جنرل محمد علی جناح سے ملاقات کی اور نئی مملکت کے لیے مالی اور انتظامی چیلنجز پر گفتگو کی۔ دفترِ خزانہ میں کاغذوں کی چَھناہٹ تھی، جن میں پاکستان کے لیے بھارت سے واجب الادا 55 کروڑ روپے کا تذکرہ تھا، جو ابھی تک رکے ہوئے تھے۔
ایک خاموش فتح: آج کچھ اسکول دوبارہ کھولے گئے۔ بچوں نے “پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگائے، لیکن ان کی صفیں ادھوری تھیں۔ کچھ بستے اب بھی گمشدہ بچوں کی راہ دیکھ رہے تھے۔ استاد نے تختی پر لکھا: “25 اگست، یومِ حیات نو” — لیکن اُس کی آواز کانپ گئی۔
سرحد پر: راولپنڈی، سیالکوٹ، اور گوجرانوالہ کے اطراف میں فوجی مستعد تھے۔ رات گئے ہونے والے حملے کے بعد، چوکسی میں اضافہ ہوا تھا۔ گاؤں کے کچھ لوگ آج اپنی زمینوں کو چھوڑ کر پاکستان کی طرف نکل پڑے — ان کے پاس صرف قرآن، کچھ زیورات اور آنکھوں میں ایک خواب تھا۔
دن کا اختتام: شام ڈھلے لاہور کے فضا میں پہلی اذان گونجی۔ کیمپ میں بیٹھے بوڑھے شخص نے دھیرے سے کہا: “یہ اذان ہے بیٹا، اب یہاں ہمیشہ اللہ کا نام گونجے گا۔”
اور تب کچھ آنکھوں میں آنسو تھے، اور کچھ آنکھوں میں اطمینان۔
یہ دن، 25 اگست 1947، درد کے صفحات میں لکھا گیا، مگر اس پر مہر امید کی تھی۔
@@@@@@@@