October 10, 2026

موسمیاتی تبدیلی: ایک عالمی چیلنج اور ہماری اجتماعی ذمہ داری شکیل چانڈیو

IMG-20250824-WA0214

موسمیاتی تبدیلی: ایک عالمی چیلنج اور ہماری اجتماعی ذمہ داری
شکیل چانڈیو

دنیا بھر میں اس وقت موسمی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں اور ماحولیاتی آلودگی پوری دنیا کے لیے ایک سنگین اور خطرناک مسئلہ بن چکی ہے۔ اگرچہ دنیا یہ تسلیم کرتی ہے کہ موسمی تبدیلی ایک مشترکہ خطرہ ہے، لیکن اس کے حل کے حوالے سے اب بھی مختلف آرا موجود ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اگر زمین پر کوئی آفت آتی ہے تو اس کا خطرہ پوری انسانیت اور تمام جانداروں پر یکساں ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات زندگی کے ہر پہلو پر پڑ رہے ہیں اور یہ انسانی تہذیب کے ساتھ ساتھ تمام جانداروں کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سب سے زیادہ شکار ہے۔ یہاں نہ صرف حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) تیزی سے تباہ ہو رہا ہے بلکہ معاشی حالات بھی دن بہ دن ابتری کی طرف جا رہے ہیں۔ ماحولیات میں یہ تبدیلیاں اب ایک سنگین عالمی مسئلہ بن چکی ہیں، جو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور زمین کو تباہی سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام کی کاوش

اسی سوچ کے تحت سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام نے “نائس ٹریننگ ہال، مٹھی شہر” میں تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں سانگھڑ، میرپور خاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر کے “کلائمٹ اسمارٹ نیٹ” سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن، نوجوان، خواتین اور مختلف مذاہب کے رہنما شریک ہوئے۔ اس موقع پر ماہرِ ماحولیات اور سماجی رہنما ڈاکٹر اشوک سوتر اور معروف سماجی شخصیت نور محمد بجیر نے شرکاء کو سندھ ریزیلینٹ پالیسی 2022 سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔

ورکشاپ میں شریک نوجوانوں، سماجی رہنماؤں اور کلائمٹ اسمارٹ نیٹ ورک کے نمائندوں نے اپنے اپنے علاقوں میں رضاکارانہ طور پر کیے گئے اقدامات اور کام کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ اس موقع پر یہ بات اجاگر کی گئی کہ ماحول دوست طرزِ زندگی اور مقامی سطح پر عملی اقدامات کے بغیر زمین کو محفوظ بنانا ممکن نہیں۔

صنعتی ترقی اور ماحولیات پر اثرات

زمین پر زندگی کا دار و مدار اس کے قدرتی توازن پر ہے، لیکن تیز رفتار صنعتی ترقی، غیر ذمہ دارانہ طرزِ زندگی، ایندھن کا حد سے زیادہ استعمال اور درختوں کی بے تحاشا کٹائی نے اس توازن کو بُری طرح بگاڑ دیا ہے۔ گزشتہ نصف صدی میں ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک نئی شکل تو دی ہے، لیکن اس ترقی کی قیمت زمین کے قدرتی وسائل نے ادا کی ہے۔

ایندھن کے بے تحاشا استعمال کے باعث زمین کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ درجہ حرارت اب اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ اس کے منفی اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں موسموں کی شدت میں اضافہ، غیر متوقع بارشیں، برف باری، سیلاب، زلزلے، طوفان، فصلوں کی پیداوار میں کمی اور نت نئی بیماریوں کا جنم لینا انہی اثرات کا کھلا ثبوت ہیں۔ شدید بارشیں زمین کی ساخت، زرخیزی اور دریاؤں کے بہاؤ کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جبکہ زیر زمین پانی بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ آئندہ تیس سالوں میں دنیا کے کئی خطے شدید پانی کی قلت کا سامنا کریں گے۔

موسمیاتی تبدیلی اور پاکستان

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کئی جہتوں سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرمی ہر جاندار کو متاثر کر رہی ہے اور اموات کی شرح میں اضافہ کر رہی ہے، خاص طور پر غریب اور کمزور طبقات زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ زراعت کی پیداوار میں کمی، پانی کے ذخائر کی کمی اور قدرتی وسائل کی بربادی مستقبل کے بڑے خطرات ہیں۔

تھرپارکر جیسے علاقوں میں پانی کی سطح مزید گہری ہو رہی ہے اور زیر زمین پانی زہریلا اور کڑوا ہوتا جا رہا ہے۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ یہ عمل زمین پر بسنے والے انسانوں اور دیگر جانداروں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کا کاربن اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر اس کے باوجود یہ ملک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ جھیل رہا ہے۔ 2022 میں سندھ میں ہونے والی تباہ کن بارشیں اور سیلاب اس کی بڑی مثال ہیں۔ آج بھی ان نقصانات کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ اگر پاکستان گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو مکمل طور پر ختم بھی کر دے تو بھی وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا، کیونکہ عالمی اخراج فضا میں موجود رہے گا اور دنیا بھر پر اثر انداز ہوتا رہے گا۔ جب تک پوری دنیا مشترکہ طور پر ان گیسوں کے اخراج پر قابو نہیں پاتی اور موجودہ آلودگی کو ختم کرنے کے لیے قدرتی یا سائنسی طریقے اختیار نہیں کیے جاتے، تباہی کے خطرات بڑھتے رہیں گے۔

ہمارے اقدامات اور ذمہ داریاں

اس حقیقت کے باوجود ہمیں اپنی زمین اور ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ درختوں کی کٹائی روکنی ہوگی اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کرنی ہوگی تاکہ گرمی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ جنگلات کی تباہی ماحولیات کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے، جبکہ دریاؤں کا ایکو سسٹم ہی اصل ماحولیاتی توازن کی ضمانت ہے۔

پانی کی حفاظت اس وقت سب سے اہم ضرورت ہے۔ سندھ کے تقریباً ہر شہر اور علاقے میں پانی کی کمی اور آلودگی کی شکایات عام ہیں۔ ہمارے جھیلوں، تالابوں اور واہن میں غلاظت اور آلودگی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی کا استعمال، پلاسٹک کے استعمال میں کمی، پانی کے ضیاع کو روکنا اور ماحول دوست اقدامات اختیار کرنا ناگزیر ہیں۔

اگر ہر فرد سال میں کم از کم ایک درخت لگائے اور اس کی نگہداشت کرے تو ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کوششیں بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ اگر کوئی درخت نہیں لگا سکتا تو کم از کم دوسروں کو ماحول کی حفاظت کی اہمیت سے آگاہ کرے۔

ورکشاپ میں شریک مذہبی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور نوجوانوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم سب اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کریں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور محفوظ مستقبل قائم کریں گے۔

زمین ہمارا مشترکہ گھر ہے۔ اس کے قدرتی نظام، زرخیزی اور خوبصورتی کی بقا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ یہ فرض صرف حکومت یا کسی ادارے پر نہیں بلکہ ہر فرد پر عائد ہوتا ہے کہ وہ ماحول کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔ اگر آج ہم اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو آنے والی نسلیں ہمیں قصوروار ٹھہرائیں گی۔