October 29, 2026

انتخاب : ناظمہ ایاز اساتذہ پچھلے سال کی بات ہے ، یہی ساون بھادوں کا موسم تھا ، ہم میاں بیوی کہیں سے واپس آ رہے تھے شہر کے

IMG-20250812-WA0330

انتخاب : ناظمہ ایاز
اساتذہ

پچھلے سال کی بات ہے ، یہی ساون بھادوں کا موسم تھا ، ہم میاں بیوی کہیں سے واپس آ رہے تھے شہر کے قریب ہی کسی جگہ نان لینے کے لیے ایک تنور پر رکے ، روٹیاں لینے والوں کا رش تھا ، میرے شوہر گاڑی سے نکل کر باہر چلے گئے ۔ تندور کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا چائے کا ڈھابہ تھا ، دیوار کے ساتھ ایک ٹونٹی لگی تھی اور ایک تیرہ ، چودہ سالہ بچہ ڈھیر ساری چائے کی پیالیاں اور چائے کا بڑا سا کالا دیگچہ دھو رہا تھا ، مجھے وہ بہت ہی پیارا لگا ، بالکل اپنے بیٹے جیسا، وہ برتن دھوتے دھوتے بار بار گاڑی کو دیکھتا ، میں نے اسے اشارے سے اپنے پاس بلایا ۔ وہ پہلے کچھ جھجکا ، پھر قمیص کے پلو سے ہاتھ صاف کرتا اٹھ کر گاڑی کے قریب آ گیا۔
پہلے تو اسے سلام کیا ، پھر چپس کا کھلا ہوا پیکٹ پکڑایا جو اس وقت گاڑی میں سامنے ہی پڑا تھا ، اس نے ہچکچاتے ہوئے لے لیا ، ٹائم پاس کرنے کے لیے یونہی تھوڑی دیر اس سے بات چیت ہوئی ، وہ ادھر ادھر دیکھ کر ایک ایک سوال کا جواب دیتا رہا ۔۔۔ برتن کیوں دھوتے ہو ؟ سکول کیوں نہیں جاتے ؟ کب سے کام کررہے ہو؟ تنخواہ کتنی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔
اس بچے سے بھی شاید حال دل سنانے کو کسی نے پہلی بار کہا تھا ، گاڑی کے شیشے کے پاس کھڑے ہوکر مجھ سے باتیں کرنے لگا ، اس نے اپنا نام منیب احمد بتایا ، اس کی آنکھیں بہت روشن اور ذہانت سے بھری تھیں ، مختصر سی بات چیت میں مختصر سا حالِ دل یہ تھا کہ اس کے والد مزدور ہیں ، والدہ کپڑے گھروں میں کام کرتی ہے ، وہ سرکاری سکول پڑھنے بھی جاتا تھا اور قریبی مدرسے میں قرآن پڑھنے بھی ۔۔۔ اور اس کے تینوں بہن بھائی اب بھی پڑھتے ہیں ۔۔
پوچھا جب بہن بھائی پڑھتے ہیں آپ نے کیوں چھوڑا پھر ؟
کہنے لگا پانچویں جماعت میں تھا تو ابو نے مدرسے ڈالا کہ حفظ کر لوں ، مجھے بھی حفظ کرنے کا بہت شوق تھا ، میں نے چھ ماہ میں گیارہ سپارے حفظ کرلیے تھے ، مگر وہاں میرے سمیت دوسرے بچوں کو بہت مار پڑتی تھی ، قاری صاحب بات بہ بات پیٹتے تھے مگر میں پھر بھی مدرسے جاتا رہا ، مجھے حفظ کرنے کا بہت شوق تھا ، رمضان میں کچھ دن مجھے بخار رہا میں پڑھنے نہیں گیا ، قاری صاحب نے بچے بھیج کر بلوایا تو امی نے بھیج دیا ، اس دن ان کو پتا نہیں کس بات کا غصہ تھا دو تین بچوں کو مارنے کے بعد مجھے بھی بانس کی چھڑی سے اتنے زور سے ایک ہی ضرب لگائی کہ دائیں ہاتھ کی کلائی کے قریب سے میرا بازو
ٹوٹ گیا ، مجھے پھر آٹھ دن کی چھٹی کرنا پڑی ، پلستر لگ گیا،

پھر بازو تو ٹھیک ہوگیا لیکن میں اس کے بعد پڑھنے نہیں گیا ، اس پر گھر سے بھی مار کھائی مجھے دوبارہ سکول داخل کرایا گیا لیکن میں کتاب نہیں پڑھ سکتا تھا نہ کوئی لفظ یاد ہوتا تو استاد بھی مجھے مارتے ، میں سکول سے بھاگ آتا ۔
میں دائیں ہاتھ سے وزن نہیں اٹھا سکتا تھا نہ کھیل سکتا تھا ، میرا پورا سال ضائع ہوگیا ، حفظ چھوٹ گیا ، یاد کیے ہوئے سپارے بھی بھول گئے ، پھر باپ نہیں کہا پڑھنا نہیں ہے تو کام کرو ، پچھلے ایک چار ماہ سے یہاں برتن دھوتا ہوں اور ٹیبل صاف کرتا ہوں ۔
وہ کہانی سنا کر چلا گیا ۔۔۔ اور میں سوچ رہی تھی کہ ایک ذہین ، چمکدار آنکھوں والا سمجھ دار بچہ ، روشن دماغ ۔۔۔ جسے پڑھ لکھ کر کسی اونچی مسند پر بیٹھنا تھا ، جسے دین سیکھنے کا شوق تھا ، کچھ جابر استادوں کے ہاتھوں آج کہاں سے کہاں پہنچ گیا ۔۔ کچھ مار کھا کر بھی پڑھتے رہتے ہیں مگر ان کے ذہن میں نفرت اور انتقام بھی پکتا رہتا ہے ۔ یہ استاد بن کر اگلی نسلوں پر غصہ اتارتے ہیں ، انتقام لیتے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔
آپ بھی کسی مدرسے یا سکول میں استاد ہیں ؟ تو یہ سلسلہ منقطع کردیجیے ۔ یہ معصوم علم سیکھنے آتے ہیں ، ان پھولوں کو ، ان فرشتوں کو ،تشنگان علم کو ۔۔۔ کتاب تھما کر چھڑی کی نہیں پیار کی مار مارئیے ، اور پھر دیکھیے کہ آپ کی جلائی ہوئی شمعیں قیامت تک روشن رہیں گی ۔ اور چراغ سے چراغ جلیں گے ۔اور آپ کی نسلیں اور آخرت بھی سنور جائے گی ۔