حب شہر میں ہوٹل مافیا کی من مانی – پرائس کنٹرول اور فوڈ اتھارٹی مکمل ناکام
حب شہر میں ہوٹل مافیا کی من مانی – پرائس کنٹرول اور فوڈ اتھارٹی مکمل ناکام
بلوچستان کے صنعتی حب سٹی میں ہوٹل مافیا کا مکمل راج قائم ہو چکا ہے۔ ایک طرف ہوٹل مالکان اپنی مرضی کے من مانے نرخوں پر اشیائے خور و نوش فروخت کر رہے ہیں، تو دوسری طرف کھانے پینے کی اشیاء کی صفائی، معیار اور حفظان صحت کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ مگر ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی مکمل طور پر غفلت کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذ کی حد تک
شہر کے مختلف ہوٹلوں اور چائے خانوں میں فل چائے 70 روپے، کٹ چائے 50 روپے، چکن پراٹھا 250 روپے، اور انڈا 80 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، جو کہ سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹی کی طرف سے کسی قسم کی مانیٹرنگ، نوٹس یا جرمانے کی کوئی مثال سامنے نہیں آ رہی۔
صفائی کا فقدان – فوڈ اتھارٹی خاموش تماشائی
ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دکانوں میں استعمال ہونے والا گھی، آئل، سالن کے برتن، گندے کپڑے، فرش اور بیٹھنے کی جگہیں انتہائی غلیظ حالت میں پائی گئیں۔
فوڈ اتھارٹی بلوچستان، جو حفظانِ صحت اور اشیاء کے معیار کی نگرانی کی ذمہ دار ہے، مکمل طور پر غیر فعال نظر آتی ہے۔ نہ کوئی معائنہ، نہ کوئی لیبارٹری ٹیسٹنگ، اور نہ ہی ناقص اشیاء استعمال کرنے والے ہوٹلوں پر کوئی چھاپہ۔
شہری حلقوں کا شدید ردعمل
شہریوں کا کہنا ہے کہ:
> “ہم زہر کھا رہے ہیں یا کھانا، کچھ پتا نہیں۔ نہ قیمت کنٹرول ہے، نہ کوالٹی کی گارنٹی۔ ہوٹل مالکان کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور انتظامیہ صرف فائلوں میں موجود ہے۔”
مطالبات اور ممکنہ اقدامات:
1. ڈپٹی کمشنر حب فوری شہر بھر کے ہوٹلوں کا دورہ کریں۔
2. فوڈ اتھارٹی بلوچستان ہوٹلوں سے سیمپل لے کر معیاری ٹیسٹنگ کروائے۔
3. ناقص صفائی یا غیر معیاری اشیاء پر ہوٹل مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
4. ہر ہوٹل پر سرکاری نرخ نامہ آویزاں کرنا لازم قرار دیا جائے، اور خلاف ورزی پر موقع پر جرمانے کیے جائیں۔
5. شہری شکایات کے لیے آن لائن شکایتی پورٹل یا واٹس ایپ ہیلپ لائن قائم کی جائے۔
—
یہ صرف ایک خبر نہیں، عوامی صحت اور بنیادی حقوق کا سوال ہے۔ اگر انتظامیہ نے فوری اور عملی اقدامات نہ کیے، تو ہوٹل مافیا کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز بعید نہیں۔