کو ئٹہ شہر انگریزوں نء 1878 ءمیں چھاؤنی کے ساتھ تعمیر کیا تھا 31مئی 1931 ء کے زلزلے میں یہ50 ہزار آبادی کا شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا
کو ئٹہ شہر انگریزوں نء 1878 ءمیں چھاؤنی کے ساتھ تعمیر کیا تھا 31مئی 1931 ء کے زلزلے میں یہ50 ہزار آبادی کا شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا جسے انگریز نے پھر 1942 تک تعمیر کردیا یہ پانی کے نلکے 1878 میں شہر کے مختلف علاقوں میں درجنوں کی تعداد میں نصب کئے گئے تھے زلزلے کے بعد بھی یہی نلکے نصب رہے پانی کے ان پبلک نلکوں کو لندن کی کسی فیکٹری نے تیار کیا تھا شیر کے منہ سے پینے کا پانی صبح اور شام میونسپل کمیٹی کی طرف سے شہریوں کے لیے مفت تھا اس کے اوپر اسی طرح موٹے لوھے کا گنبد نما ڈھکنہ ہوتا تھا جبکہ پیتل کے بڑے سوراخ میں بڑا پائپ ایمرجنسی میں آتشزدگی کے موقع پر میونسپل کمیٹی کی جانب سے کھولا جاتا تھا یہ نلکے 1980تک شہر میں دکھائی دیتے تھے اب یہ واحد شیر نلکا سورج گنج بازار سرکلر روڈ اور مسجد روڈ کے چوراہے پر ھے اور اس لیے بچا ہے کہ یہاں پکوڑے والے کی دکان ہے جو اس کو جستی چادر پہنائے رکھتا اور اس پر پکوڑوں کا تھال رکھتا ھے اس147 سال پرانے نلکے کی انٹیک ویلو 10لاکھ روپےتک ہوگی بلوچستان آثار قدیمہ کو چاہیے کہ وہ اس کو محفوظ کرلیں