دل کی بات خ ح شہزاد شجرکاری مہم
دل کی بات
خ ح شہزاد
شجرکاری مہم
دنیا بھر میں اس وقت موسمی تبدیلی موضوع بحث ھے۔۔پاکستان ٹاپ ٹین میں شامل ھے جہاں موسمی تبدیلی بہت زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آرھی ھے۔جبکہ موسم خراب کرنے میں پاکستان کا حصہ صفر ھے۔ترقی یافتہ ممالک کے گند نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ھے اس وقت پاکستان میں مون سون چل رھا ہے۔لیکن بارشیں پہلے سے کہیں زیادہ اور طوفانی صورت میں آرھی ھیں۔اؤر بہت سارے علاقوں خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں بہت زیادہ جانی مالی نقصان ھوا ھے۔ ابھی تک یہ سلسلہ جاری ھے۔اور دریائی سیلاب بھی متوقع ھے۔اور بھارت کی آبی دہشت گردی کا خطرہ الگ سے موجود ھے۔جن ممالک نے قدرت کے ساتھ مزاق کیا ھے تو آج قدرت انکو اپنی طاقت دیکھآ رھی ھے۔ھمارے شمالی علاقہ جات جنت نظیر علاقوں میں جنگلات کو بے دردی سے کاٹا گیا اور پھر نئے درخت لگانے میں قومی غفلت کا مظاھرہ کیا گیا۔میدانی علاقے میں پہلے ھی درخت کم تھے اور مزید کم ھوگے۔لیکن حکومت سمیت عوام نے اس طرف توجہ نہیں دی۔اب صورتحال یہ ھے کہ سابقہ حکومت نے درختوں کا سونامی اگانے کا اعلان کیا ۔بہت حد تک کام ھوا۔لیکن جو تباھی ھم اپنے ہاتھوں کرچکے ھیں وہ ایک سال میں پوری نہیں ھونے والی۔ مسلسل اور دلجمعی کے ساتھ حکومت اور عوام اپنی غفلت کا کفارہ ادا کریں اور دو موسم اللہ تعالی نے دیئے ھیں۔جس میں پودے لگائے جاسکتے ھیں۔جہاں تک حکومتی اقدامات ھیں وہ زمین پر کم اور فائلوں میں زیادہ نظر آتا ھے اور عوام این جی اوز کا تصویروں میں زیادہ اور زمین پر کم نظر آتا ھے۔ابھی مون سون جاری ھے اور فائلوں اور تصویروں میں ھم لاکھوں پودے لگا چکے ھیں۔اور سرکاری ۔پراہیوٹ نرسریوں سے لاکھوں پودے مفت اور فروخت ھوچکے ھیں لیکن آپ اگر انہیں زمین پر ڈھونڈیں تو بمشکل لاکھوں پودے جو لگائے گے وہ ہزاروں اور سیکنڑوں میں ملیں۔۔اس وقت سیاست۔لسانیت۔مزہبی اختلافات سب کچھ بھول کر ھم کو صرف پاکستان کو موسمی تبدیلیوں سے بچانے کی فکر کرنی چاھے۔اور ساتھ ساتھ توبہ استغفار بھی کرنی چاھے کیونکہ ھمارے اعمال عذاب قابل ھوچکے ھیں۔پہلی امتوں کو ایک ایک گناہ کی وجہ سے تباہ کردیا گیا۔اب ھم میں سارے گناہ موجود ھیں۔تو موسمی تبدیلیاں اس وجہ سے بھی آرھی ھیں۔لیکن ھم نے اور حکومت نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی کیونکہ سوچنے سمجھنے اور خوف خدا ختم ھوچکا ھے۔درخت بھی لگاھیں اور ساتھ اپنے اعمال پر بھی نظرثانی کی ضرورت ھے۔