October 28, 2026

یاد رکھیں سی سی ڈی کسی کی بھی ایماء یا پسند و ناپسند کی بنیاد پر کاروائیاں نہیں کرتی بلکہ تمام تر کاروائیاں انٹیلیجنس رپورٹس کی روشنی اور پختہ ثبوتوں کی بنیاد پر ہوتی ھے

IMG-20250704-WA0205

یاد رکھیں سی سی ڈی کسی کی بھی ایماء یا پسند و ناپسند کی بنیاد پر کاروائیاں نہیں کرتی بلکہ تمام تر کاروائیاں انٹیلیجنس رپورٹس کی روشنی اور پختہ ثبوتوں کی بنیاد پر ہوتی ھے جس کا ایک نہایت بے منصفانہ طریقہ کار ہے اور اس عمل کو کسی بھی طور ذاتی انتقام اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا سی سی ڈی پنجاب پر میں کسی بھی جگہ سے ملزم اٹھا کر اپنے تھانہ میں مقدمہ درج کر سکتی ہے۔عادی مجرم ڈاکو کار لفٹر منشیات فروش بھتہ خور گینگسٹر شوٹر اور ان کے ہینڈلرز اغوا برائے تاوان کرنے والے اور دوران ڈکیتی ریپ کرنے یا فائر مارنے والے سی سی ڈی کے ریڈار پر ہیں۔ان میں سے جو بھی سی سی ڈی کے ہاتھ لگا وہ دوبارہ جرم کرتا نظر نہیں آئے گا۔ ان ہدایات پر عمل کریں اور اپنے اور اپنے گھر والوں کو پریشانی سے بچائیں۔غلطی سے بھی سوشل میڈیا یا ویگو ڈالوں میں اسلحہ کی نمائش نہ کریں کیونکہ سی سی ڈی گھر پر ریڈ کرنے کی بجائے اچانک کسی بھی سڑک یا شادی یا کسی بھی فنکشن سے گرفتار کرے گی اور عزت اور شوکا شاکی کا فلودہ کرتے ہوئے گھسیٹ کر نامعلوم مقام پر لے جائیں گے۔ چاہے جتنے بھی با اثر ہوں گھر والے فوری طور کچھ بھی مدد نہیں کر سکیں گے جیسا کہ ایک ایم این اے کو بھی ایک فنکشن سے گرفتار کیا گیا اور علاقہ میں ان کے روب و دبدبہ کا جنازہ نکل گیا۔ اوپر سے سی سی ڈی تھانہ میں کوئی عام بندہ نہیں جا سکتا بیک وقت اسی جگہ پر ایس ایچ او ڈی ایس پی اور ایس پی موجود ہوتا ہے اور سہیل ظفر چٹھہ کو پل پل کی رپورٹ فارورڈ کی جاتی ہے۔یاد رکھی سی سی ڈی ڈیروں پر چھاپے مارنے کا تکلف نہیں کرتی بلکہ سڑک سے اٹھانے میں زیادہ خوش محسوس کرتی ہےپسٹل ڈب میں لگا کر پھرنے والے چھوٹے موٹے ڈان اور شریف و غریب لوگوں پر بلا وجہ رعب ڈالنے والے اور بدمعاشی کرنے والے کن کترے فوری طور پر اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں اور اعلانیہ توبہ کریں ورنہ بہت جلد سی سی ڈی کی گرفت میں ہوں گے۔ریکارڈ یافتہ اعلانیہ طور پر پکی طور پر پکی توبہ کر لیں اور یہی ان کے حق میں بہتر ہوگا۔یاد رکھیں سی سی ڈی پولیس کی تفتیش میں مداخلت نہیں کرتی لیکن جو مقدمہ سی سی ڈی کے ریڈار میں آگیا اور وہ ملزم کو لے گئے تو پھر وہ تفتیش خود کریں گے اور سی سی ڈی کی تفتیش روایتی تفتیش کی بجائے انتہائی میرٹ پر ہوگی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ملزم کی ضمانت نہ ہو اور اگر اپنی خوش قسمتی کی وجہ سے وہ جیل سے بابر آھی جائے تو بھی باہر آ کر وہ دوبارہ جرم کرنے کی بجائے لوگوں کو شرافت سے زندگی گزارنے کی نصیحتیں کرے۔