*شہادت حسین کی پیشن گوئی* بدھ 02 جولائی 2025 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*شہادت حسین کی پیشن گوئی*
بدھ 02 جولائی 2025
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
رسول صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ کے گھر تھے ام سلمہ سے فرمایا کسی کو بھی میرے پاس انے کی اجازت نہ دینا اسی اثناء میں حسین علیہ سلام آگئے جو کہ اس زمانے میں بچہ تھے ام سلمہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے نہ روک سکیں اور حسین حجرہ میں داخل ہو گئے ۔ام سلمہ بھی ان کے پیچھے پیچھے حجرہ میں داخل ہو گئی۔ دیکھا کہ حسین رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ پر لیٹے ہیں اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھ میں کوئی چیز لیے ہیں اور رو رہے ہیں اس کے بعد ان کی طرف رخ کر کے فرمایا ۔اے ام سلمہ! جبرائیل علیہ السلام نے ابھی مجھے یہ خبر دی ہے کہ میرا بیٹا حسین علیہ السلام قتل کیا جائے گا پھر جو بھی مٹی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہاتھ میں تھی وہ ام سلمہ کو دی اور کہا اسے اپنے پاس حفاظت سے رکھو جب تم یہ دیکھو کہ مٹی خون ہو گئی ہے تو سمجھنا کہ حسین علیہ السلام قتل ہو گئے ہیں۔ ام سلمہ نے عرض کی اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا سے درخواست کیجئے کہ انہیں قتل ہونے سے بچا لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے درخواست کی تھی لیکن وحی نازل ہوئی کہ حسین علیہ السلام کے لیے ایک درجہ ہے جس پر آدمیوں میں سے کوئی نہیں پہنچے گا وہ اپنے شیعوں کی حفاظت کریں گے۔ مہدی علیہ السلام ان کی اولاد میں ہوں گے اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو حسین علیہ السلام کے شیعہ ہیں۔ خدا کی قسم ان کے شیعہ قیامت کے دن رستگار ہوں گے۔
*وضاحت*
(شیعہ معنی ساتھیوں کا گروہ)
عبداللہ بن یحیی نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ ہم علی کے ہمراہ صفین کی طرف جا رہے تھے جب نینوا پر پہنچے تو علی نے فرمایا اے ابو عبداللہ صبر کرو اے ابو عبداللہ فرات کے کنارے صبر کرنا ۔میں نے عرض کی ان کلمات سے اپ علیہ السلام کی کیا مراد ہے ؟فرمایا ایک دن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شرف یاب ہوا دیکھا کہ گریہ فرما رہے ہیں میں نے رونے کا سبب دریافت کیا تو فرمایا جبرائیل ابھی یہاں تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ حسین فرات کے کنارے قتل کیے جائیں گے اس کے بعد کہا کیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم) ان کی قبر کی خاک سونگھنا چاہتے ہیں پھر ایک مشت خاک مجھے دی اس لیے رو رہا ہوں۔
انس بن حارث کہتے ہیں میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔یقینا میرا بیٹا حسین علیہ السلام سرزمین عراق پر قتل کیا جائے گا اس وقت ان کے زمانے کے ہر شخص کو ان کی مدد کرنا چاہیے ۔
ابو وائل شقیق بن سلمہ نے ام سلمہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا حسن اور حسین میرے حجرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر جبرائیل نازل ہوئے اور حسین کی طرف اشارہ کر کے کہا اے محمد آپ کی امت آپ کے بعد اپ کے بیٹے کو قتل کرے گی یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے اور حسین کو سینے سے لگایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ خاک تمہارے پاس و دیعت ہے اس سے سونگھا اور فرمایا ۔افسوس ! کرب و بلا پر۔
ام سلمہ کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ام سلمہ جب تم یہ دیکھنا یہ خا ک خون ہو گئی ہے تو تم سمجھ لینا میرا بیٹا حسین قتل کر دیا گیا ہے ام سلمہ نے اس خاک کو شیشی میں رکھ دیا اور ہر روز اسے دیکھتی اور کہتی اے خاک جس دن تو خون میں تو بدل گئی وہ بڑا مصیبت ناک دن ہوگا۔
نوٹ:
امام طبرانی رحمہ اللہ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت نقل کی ہے
*الدعا*
یا اللہ ہماری حفاظت فرما اور ہمیں اہل بیت الرسول سے محبت کرنے والا بنا۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333