October 2, 2026

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنا دفاع مضبوط رکھتی ہیں* *کالمکار : جاوید صدیقی*

IMG-20250602-WA0242(2)

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنا دفاع مضبوط رکھتی ہیں*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

دنیائے تاریخ کے اوراق میں واضع طور پر لکھا ھے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو اپنا دفاع مضبوط رکھتی ہیں اور مزید لکھا کہ اسلام کی سربلندی کی ایک وجہ اس مذہب کا جھاد رھا۔ اسلام کے داعی پیغمبر خدا سب سے پہلے سپہ سالار رھے۔ مزید دنیائے تاریخ بتاتی ھے کہ پیغمبروں کے غلام اور عاشقوں نے بھی جھاد در جھاد کو فوقیت دی اور اسلام دنیا کے تین حصوں تک پھیلا دیا تاریخ یہ بھی بتاتی ھے کہ اسلام کے دشمن کبھی بھی مہذب اورشریفانہ انداز کو قبول نہیں کرتے بلکہ وہ کمزوری سمجھنے لگتے یہی وجہ ھے کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے ہر دور میں الفاظ سے نہیں تلوار سے سمجھا ھے۔ تاریخ یہ بھی لکھتی ھے کہ اسلام کے پیغمبر ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد آپکی وراثت میں تلوار ، تیر ، نیزے تھے اس سے اشارہ یہ ملتا ھے کہ مسلمانوں کو ہر دور میں اپنے دشمنوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور تیار رہنا ھے البتہ پیغمبر اسلام نے ہمیشہ امن کو فوقیت دی اور امن کا ہی راستہ اپنایا لیکن سرکش ضدی دشمن کو سبق سیکھانے کیلئے طاقت کا بھی اثر دیکھایا۔ دشمنانان اسلام نے ہمیشہ ہر دور میں مسلمانوں کے درمیان فتنہ و فساد سازش اور منافقت کو پھیلانے کی ہر ممکن کوششیں جاری رکھیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انکے دین میں اتحاد بھائی چارگی اور اخوت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ھے اسی سبب ان کفار و مشرکین نے مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے انہیں دین سے دور اور دنیا کی محبت میں مبتلا کرنے کیلئے اپنی دولت عورت اور املاک کے انبار پھیلا دیئے وقت کیساتھ ساتھ وہ اپنے ان منفی عزائم میں کامیاب ہوتے چلے گئے۔ آج پندرہ ویں صدی میں مسلم ریاستوں کو منقسم رکھنے کیلئے ان میں مسالک کے تعصب ، شراب نوشی ، موسیقی ، حسن پرستی ، عیاشی اور دنیا پرستی کے امراض میں مبتلا کردیا۔ اہل عرب دنیا کی بیش بہا دولت رکھنے کے باوجود اپنا دفاع مضبوط نہ کر پائے۔ پاکستان اسلامی ریاست میں واحد ملک ھے جو جوہری طاقت کا حامل ھے یہی سبب ھے کہ صیہونی طاقتیں پاکستان کا بال بھیگا نہیں کرسکتا۔ دوسرا اسلامی ملک ایران ھے جس نے اپنی ایمانی طاقت کے بل بوتے پر سپر پاور ممالک صیہونی طاقتوں کو ناکوں چنے چبوادیئے بلآخر صیہونی طاقتیں شکست تسلیم کرنے پر آمادہ ہوگئیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! ایک طیارہ ، صرف ایک طیارہ کافی ھے۔ پوری امت کی آنکھیں کھولنے کیلئے۔۔۔ لیکن نہیں؟ دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کی تعمیری لاگت ایک اعشارہ پانچ بلین ڈالر جبکہ امریکہ کا ایک بی ٹو بمبار طیارہ دو اعشاریہ بلین ڈالر کا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟
امتِ مسلمہ عمارتیں بلند کرتی رہی وہ قومیں اپنی سوچ بلند کرتی ہیں۔ اسی لئے ہم پیچھے ہیں، وہ آگے۔ امریکہ ہر سال نو سو بلین ڈالر دفاع پر خرچ کرتا ہے اور ہم ابھی تک فخر سے کہتے ہیں: ہمارے پاس تیل ہے!!
تیل سے عقل نہیں خریدی جاسکتی۔ ہم خواب بناتے رہے، وہ منصوبے بناتے ہیں۔ ہم صرف دعائیں کرتے رہے وہ محنت کرتے ہیں۔
ہم تقریر کرتے ہیں وہ تحقیق کرتے ہیں۔ کیا یہی ہے فرق ترقی یافتہ اور زوال پذیر قوم میں؟ اگر ایک طیارہ ہماری سب سے بڑی عمارت سے مہنگا ہوسکتا ہے، تو شاید ہمیں اپنی سوچ کا نقشہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف مسجدیں نہیں، لیبارٹریاں بھی درکار ہیں۔ صرف منبر نہیں مائیکرواسکوپ بھی۔ صرف عالم نہیں سائنسدان بھی!! خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو۔ وقت تاریخ کے کچرے دان میں ڈال دیگا۔ ویسے اب بھی تاریخ کے کباڑ خانے میں ہی ہیں۔ ہم نے بچوں کو ماضی کے قصے سنائے دشمن نے انہیں مستقبل کا ہنر سکھایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ماضی میں جیتے رہے، وہ مستقبل میں پہنچ گئے۔۔۔۔۔!!