October 29, 2026

آئینہ وقت کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں فتنۂ بلوچستان کا پردہ چاک

20250620_200527

آئینہ وقت

کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں

فتنۂ بلوچستان کا پردہ چاک

گزشتہ چند دنوں میں جو واقعات خاموشی سے وقوع پذیر ہوئے، انہوں نے کئی چہروں سے نقاب ہٹا دیے ہیں۔ ایران کے ایک ساحلی شہر چابہار کے نزدیک ایک گودام پر چھاپہ پڑا، بظاہر ایک عام کارروائی، لیکن حقیقت میں وہ لمحہ تھا جب ایک بڑے فتنے کی جڑ ہلی۔ ایرانی سائبر ماہرین نے مہینوں کی خاموش نگرانی کے بعد ایک نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے حساس علاقوں کو اندر سے کھوکھلا کرنے میں مصروف تھا۔

اس کارروائی میں جو کچھ ملا، اس نے ایک نئی کہانی کو جنم دیا۔ انکشاف ہوا کہ بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں کو نہ صرف مالی بلکہ تکنیکی معاونت بھی باہر سے دی جا رہی تھی۔ بھارتی اور اسرائیلی خفیہ ادارے مل کر وہ کھیل کھیل رہے تھے جس کا مقصد محض انتشار نہیں، پورے خطے میں بدامنی کا بیج بونا تھا۔

اس چھاپے کے بعد ایران نے بغیر وقت ضائع کیے پاکستان کو اس کی تفصیلات فراہم کیں۔ جواب میں پاکستان نے وہ تیزی دکھائی جو ایک زندہ قوم کی علامت ہے۔ بلوچستان میں فوراً متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے، جہاں نہ صرف دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ملیں بلکہ وہی شواہد بھی برآمد ہوئے جو ایران میں موساد ایجنٹوں سے حاصل کیے گئے تھے۔

پنجگور میں بی ایل اے کا اسلحہ ڈپو بند ہوا، تربت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے میڈیا سیل سے Project Gidon-Esha کی وہی دستاویز برآمد ہوئی جو ایرانی کارروائی میں ملی تھی۔ کوئٹہ میں اسمگل شدہ ایرانی تیل سے جڑے پٹرول پمپوں کی نگرانی شروع ہوئی جن کا مالی تعلق RAW اور بی ایل اے کے نیٹ ورک سے تھا۔

ان سب اقدامات کے نتیجے میں محض 24 گھنٹوں میں بی ایل اے کی سپلائی لائن ختم ہو گئی۔ وہ جعلی اکاؤنٹس جو سوشل میڈیا پر “جبری گمشدگی” جیسے ہیش ٹیگ کے ذریعے ریاست کے خلاف زہر گھول رہے تھے، خاموش ہو گئے۔ “سوئنگ بریک” نامی مہم بند ہو گئی، اور ایک طویل عرصے سے تیار کردہ پروپیگنڈا مشینری بےجان ہو گئی۔

اس پوری کارروائی میں سب سے اہم گرفتاری راجیش سنگھ عرف رمضان کی تھی، جو ایک ایجنٹ کے بھیس میں درحقیقت ایک بڑے مالی نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ دبئی میں رجسٹرڈ جعلی کمپنیوں کے ذریعے 32 لاکھ ڈالر بلوچستان کے گروپوں کو منتقل کیے گئے۔ یہی رقم نومبر 2024 کی اُس سوشل میڈیا مہم میں استعمال ہوئی جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا تھا۔

لیکن اب یہ ساری سازش منہ کے بل گر چکی ہے۔ بلوچ نوجوانوں کے نام پر کھیلنے والے نقاب پوش کردار بےنقاب ہو چکے ہیں۔
ایک سنجیدہ اور بروقت تعاون نے نہ صرف فتنے کو روکا، بلکہ اس کے پیچھے کھڑے عالمی نیٹ ورک کو بھی بےنقاب کر دیا۔