آئینہ وقت کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں
آئینہ وقت
کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں
چینی کی چال، اور عوام کی جیب پر ڈال
پاکستان میں چینی صرف میٹھا کرنے کے کام نہیں آتی — یہاں یہ چینی کئی لوگوں کی قسمت چمکاتی ہے، اور ہر سال عوام کا خون نچوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ تازہ ترین خبر ہے کہ حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اور اسی کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہم نے پہلے 7 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کی، 500 ملین ڈالر کمائے، اور اب قیمتیں نیچے آگئی ہیں۔
یہ سادہ جملے سننے میں اچھے لگتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے ایک میٹھا زہر چھپا ہوتا ہے۔
آئیے، آپ کو سادہ زبان میں وہ “چینی چکر” سمجھاتا ہوں جو ہر سال عوام کے ساتھ کھیلا جاتا ہے:
1. دنیا میں چینی کی قیمت کم ہو جاتی ہے،
2. شوگر مافیا حکومت سے اجازت لیتا ہے کہ ہمیں چینی برآمد کرنے دو، ساتھ میں سبسڈی بھی دو، کیونکہ باہر بیچنے پر ہمیں نقصان ہو گا۔
3. حکومت اجازت دیتی ہے، اور اربوں روپے کی سبسڈی دے دیتی ہے — جو دراصل آپ کے میرے ٹیکس کا پیسہ ہوتا ہے۔
4. چینی باہر بیچ کر مافیا ڈالر بھی کماتا ہے، اور سبسڈی بھی جیب میں ڈال لیتا ہے۔
5. جیسے ہی ملک میں چینی کی کمی پیدا ہوتی ہے، یہ لوگ بلیک مارکیٹ میں بیچنا شروع کر دیتے ہیں، قیمتیں آسمان پر، اور ذخیرہ اندوزی کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔
6. حکومت نوٹس لیتی ہے، اور فوری چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیتی ہے —
7. اور یہاں چالاکی کی آخری چال چلی جاتی ہے: ہو سکتا ہے وہی چینی جو باہر بیچی گئی تھی، کسی دوسرے نام سے پھر واپس خرید لی جائے، یعنی اپنی ہی چیز کو دو بار بیچ کر دو بار منافع۔ اور اگر رقم منی لانڈرنگ سے واپس آئی ہو، تو کالا دھن بھی صاف، اور کاروبار بھی نفع میں۔
یوں ایک دائرہ مکمل ہوتا ہے:
سبسڈی سے مال کماؤ،
برآمد سے ڈالر بناؤ،
بلیک مارکیٹ سے مہنگائی پھیلاؤ،
اور آخر میں درآمد کرکے دوہرا فائدہ سمیٹو۔
اس سسٹم کا سب سے مظلوم کردار صرف عوام ہوتا ہے — جو پہلے سستی چینی سے محروم ہوتے ہیں، پھر مہنگی چینی خریدتے ہیں، اور آخر میں اپنی ہی جیب سے سبسڈی کی قیمت بھی چکاتے ہیں۔
یاد رکھیں، 2020 میں یہی سب کچھ ہوا، چینی کمیشن نے حقائق بے نقاب کیے، لیکن انجام کیا نکلا؟ کچھ چہرے لندن چلے گئے، کچھ ہاتھ ہلکا پڑ گیا، اور چینی کا یہ کھیل آج بھی جاری ہے۔
یہ چینی نہیں، یہ شکر کے نام پر عوام کے ساتھ مستقل بددیانتی ہے —
اور جب تک یہ گھن چکر بند نہیں ہوتا، نہ قیمت کم ہو گی، نہ نظام ٹھیک ہو گا۔