خبر ہے دودھ کے ٹیسٹ کرنے پر زیادہ دکانوں پر پاوڈر والادودھ فروخت ہونے کا انکشاف۔۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس نےملاوٹ کو پکڑنا ہے
خبر ہے دودھ کے ٹیسٹ کرنے پر زیادہ دکانوں پر پاوڈر والادودھ فروخت ہونے کا انکشاف۔۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس نےملاوٹ کو پکڑنا ہے وہ محکمہ خود ملاوٹ کرنے والوں سے منتھلی لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے کون سا اس سے دودھ لینا ہے عوام خریدے گی وہ جائے بھاڑ میں۔۔۔وہ خود اس بات سے انجان ہے کہ وہ اپنے گھر کیلئے بھینس کے تھنوں سے خود نکلوا بھی لائے گا تو وہ اس کے اس کے گھر والوں کے لئے حرام ہو گا۔۔۔
اگر یہ ٹیسٹ کوئی بھی پرائیویٹ ادارہ کرے تو سارے پاکستان کاحال ایسا ہی ہوگا۔۔۔
سرکاری محکموں کے ملازمین تنخواہ اس بات کی لیتے ہیں کہ ہم سرکار کے خاص نوازے ہوئے لوگ ہیں۔۔۔اور مزے کی بات ہے وہ پیسے ہر اس کام کیلئے طلب کرتے ہیں جیسا کوئی کروانا چاہے۔۔۔غلط کو درست اور درست کو غلط بنانا ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔۔صرف اپنی جیبیں بھرتے ہیں نہ انہیں عوام سے کوئی غرض ہے اور نہ ہی ملک پاکستان سے۔۔۔😢
واپڈا کا ملازم کہتا ہے مجھے پیسے دو ماہانہ اور بجلی جتنی مرضی چوری کرو پاکستان کو جو بھی نقصان ہو مجھے کیا بس مجھے ملتے رہیں۔۔۔
ٹیکس ملازمین کہتے ہیں ہمیں پیسے دو جتنا چاہوٹیکس چوری کرو کوئی بات نہیں۔۔
پولیس کہتی ہے چوری ڈاکہ جوا شراب فروخت جو مرضی کرو ہمیں ماہانہ حصہ دیتے رہو۔۔
ریونیو والے کہتے ہیں ہمیں پیسے دو انتقالات زمین میں جو مرضی کروالو ٹیکس بھی بچاو۔
پی آئی اے والے کہتے ہیں جہاں 2 ملازم چاہئے ہیں وہاں 200 لگاو اپنوں کو نوازو کھاو پیو پی آئی اے کونسا ہمارا ہے۔
ریلوے والے کھا گئے ریلوے کو سامان بھی بیچ رہے ٹی ٹی کہتا ہے مجھے پیسے دو جہاں مرضی جاو ریلوے کونسا میرے باپ کی ہے۔۔۔
اکاؤنٹس آفس والے پنشنوں تنخواہوں میں گھپلے کروا رہے خودبھی کھا رہے لوگوں کو بھی کھلا رہے سوچ یہی ہے کہ میرے گھر تو جا رھا ہے پاکستان کاکیا ہے۔۔
ان سب محکموں کے اوپر اینٹی کرپشن والے ہیں وہ کہتے ہیں سرکاری ملازموں کھل کے رشوت لو گھبرانا نہیں نوکری نہیں جائے گی بس کرپشن سے ہمارا حصہ دو۔۔
اس سب کے بعد بھی پاکستان ابھی تک قائم ہے تو یہ ایک معجزہ ہے۔۔۔
سیاست دانوں نے کم کھایا ہو گا جتنا سیاستدانوں کو کھانے پر ان سرکاری ملازمین نے لگایا اور کھایا ہے۔۔۔
مزید افسوس یہ کہ صحافیوں نے جنہوں نے ان سبکو بے نقاب کرنا تھا وہ سب بھی اپنا اپنا حصہ لیتے ہیں اور اپنے ذاتی مفاد لے کر ہر سرکاری افسر کی جی حضوری اور خوشامد کرنے کیلئے خبر لگاتے ہیں۔۔کسی کے خلاف خبر کوئی لگائے تو سمجھ جائیں کہ یہ سچ محض اس وجہ سے لکھا گیا ہو گا کہ اس بھائی کو حصہ نہیں ملا یا پھر اس کو کسی ذاتی یا پیسے والے کام میں انکار ہو گیا ہے۔۔۔
ایسا ہے میرے دیس کے لوگوں کا حال۔۔۔ہم کوستے رہتے ہیں اسے لیکن ہم کیا کردار ادا کر رہے۔۔۔بس ہر کوئی اپنی اپنی بساط کے مطابق لوٹ مار کر رھا ہے۔۔۔اپنی جیبیں بھر رھا ہے اور قبر کیلئے ایندھن تیار کر رھا ہے۔۔
مرنا بھول بیٹھے ہیں۔۔۔
اللہ پاک ملک پاکستان کی خیر فرمائے جس کو سرکاری ملازمین نے کمزور، لاغر اور نحیف کر دیا ہے۔۔آمین یارب العالمین