October 28, 2026

غزہ میں امداد کی تقسیم کے دوران ہجوم پر فائرنگ، 47 افراد زخمی: اقوام متحدہ

20250528_075356

غزہ میں امداد کی تقسیم کے دوران ہجوم پر فائرنگ، 47 افراد زخمی: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ منگل کے روز غزہ میں ایک امدادی مرکز پر ہجوم کے اوپر ہونے والے حملے میں 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ نیا امدادی مرکز امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ ایک نئے گروہ کی جانب سے چلایا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق ادارہ اب بھی اس حوالے سے معلومات اکھٹا کر رہا ہے تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق اس میں زیادہ تر زخمی گولیوں کی وجہ سے ہوئے ہیں اور یہ ممکنہ طور پر اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ تھی۔‘

غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور 48 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق وہ ابھی ان اطلاعات کی جانچ کر رہا ہے۔ ایک ترجمان نے کہا کہ فوجیوں نے جنوبی شہر رفح میں غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کی سائٹ کے باہر کے علاقے میں ہوائی فائرنگ کی لیکن انھوں نے لوگوں پر فائرنگ نہیں کی۔

جی ایچ ایف کا امداد کی تقسیم کا نظام اقوام متحدہ کے بجائے امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز کو استعمال کرتا ہے۔ ای ایچ ایف نے ان الزامات کو غیر اخلاقی اور ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی حکومتوں نے کہا ہے کہ وہ حماس کی جانب سے امداد چوری ہونے سے روک رہے ہیں جس کی مسلح گروپ حماس تردید کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ کی 21 لاکھ کی آبادی کو تقریبا تین ماہ سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی کے بعد جان لیوا بھوک کا سامنا ہے۔

منگل کے روز امداد کے لیے بے چین ہزاروں فلسطینیوں نے رفح میں واقع جی ایچ ایف ڈسٹری بیوشن سینٹر کا رخ کیا جو مکمل طور پر اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دوپہر کے وقت ہزاروں مرد، خواتین اور بچے ٹوٹی پھوٹی زمین اور باڑوں سے گزرتے اس مقام پر داخل ہو رہے ہیں۔

ایک ویڈیو کلپ میں کچھ لوگ دوڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ اس واقعے کے دوران تقریبا 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اجیت سنگھے نے جنیوا میں نامہ نگاروں کو بتایا ’اس دوران گولیوں کا استعمال ہوا ہے ہم اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زخمیوں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ ہم جو جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ آئی ڈی ایف کی طرف سے فائرنگ کی گئی تھی۔‘

غزہ کی وزارت صحت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ایک شخص سلیم ابو موسیٰ امدادی مرکز میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔انھیں ابتدائی طور پر رفح کے ریڈ کراس فیلڈ اسپتال لے جایا گیا جہاں انھیں خان یونس کے ناصر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ اقوام متحدہ سے معلومات اکھٹا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آئی ڈی ایف کے ترجمان کرنل اولیور رافووچ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس وقت تک ہمارے پاس اس معاملے پر کوئی جامع معلومات نہیں ہیں۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جی ایچ ایف مرکز کے باہر کے علاقے میں ’ہوائی فائرنگ‘ کی ہے اور کسی بھی صورت میں لوگوں پر فائرنگ نہیں کی۔‘

جی ایچ ایف نے منگل کے روز کہا کہ ایک موقع پر ان کی ٹیم ’غزہ کے باشندوں کی ایک چھوٹی تعداد کو محفوظ طریقے سے امداد لینے اور ختم ہونے کی اجازت دینے کے لیے پیچھے ہٹ گئی۔ یہ جانی نقصان سے بچنے کے لیے جی ایچ ایف پروٹوکول کے مطابق تھا