October 28, 2026

کشمیر میں گرمی میں برف باری، کلاؤڈ برسٹ، تیز بارشیں، اموات اور گھروں کی تباہی

20250528_075356

کشمیر میں گرمی میں برف باری، کلاؤڈ برسٹ، تیز بارشیں،
اموات اور گھروں کی تباہی

کشمیر میں موسمی اثرات، مئی جون جیسے شدید گرم موسم میں گرمی کے ساتھ ایک طرف بلند پہاڑوں پر برفباری، دوسری جانب کلاؤڈ برسٹ نے تباہی مچا دی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع مظفرآباد کے گاؤں بلگراں میں اچانک موسم کی تبدیلی نے ایسی تباہی مچائی کہ گاوں کا نقشہ ہی بدل گیا۔ وہیں پہلی بار ایسا دیکھنے میں آیا مئی جون کے ماہ میں جب سخت گرمی پڑتی وہاں آج پہاڑوں پر برفباری دیکھنے کو مل رہی ہے۔

دوسری جانب کلاؤڈ برسٹ اور اچانک سیلاب نے چار افراد کی جان لے لی جن میں تین خواتین اور ایک مرد شامل ہیں۔ مرد کی لاش ابھی تک نہیں مل سکی اور کئی درجن مال مویشی بھی اس سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں جن کے نشانات تک نہیں مل رہے۔

علاقے میں گذشتہ روز شام تین بجے کے قریب غیر معمولی موسم دیکھنے آیا اچانک تیز ہوائیں چلیں، اور پھر چند ہی لمحوں میں کلاؤڈ برسٹ نے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ گاؤں کے 25 مکانات سمیت ایک مسجد بھی سیلابی پانی کی نذر ہو گئی۔ لوگوں نے بمشکل اپنی جان بچائی۔

گاؤں بلگراں کی رہائشی زائدہ بیگم نے بتایا میں نماز پڑھ رہی تھیں، کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا، بس ایک دم تیز آندھی اور پھر سیلاب آگیا چند سیکنڈ میں پانی گھروں کے اوپر سے گزرنے لگا۔ ان کے مطابق ’ہم نے بہت مشکل سے اپنی جان بچائی، رات مشکل سے گزاری، ہم جب صبع آئے تو ہمارے گاوں کا نقشہ ہی بدل چکا تھا

ان کے مطابق ’ہمارے گھر کہاں تھے کچھ پتہ نہیں، ایسا لگتا یہاں کبھی گھر تھے ہی نہیں، اسی گاؤں کی ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ پہلے کبھی ایسا طوفان نہیں دیکھا عام طور پر موسم بدلنے میں وقت لگتا تھا مگر کل ایک دم سیلاب آ گیا۔

ان کے مطابق ’جو بچے، خواتین بھاگ سکتے تھے، وہ بچ گئے دو خواتین پانی میں بہہ گئیں جن کی لاشیں بعد میں نکالی گئیں

گاؤں کے ایک اور رہائشی عاشق حسین نقوی نے بتایا کہ ’ہمیں نہ راشن چاہیے، نہ امداد ہمیں صرف محفوظ جگہ پر منتقل کیا جائے تاکہ ہم دوبارہ اپنی زندگی شروع کر سکیں، یہاں اب رہنا خطرناک ہے، کل جس طرح قدرتی آفت آئی اس کے بعد ایسی تنگ جگہ پر رہنما ہمارے لیے اب مشکل ہے

ان کے مطابق ’کوئی پتہ نہیں کب کیا ہو جائے، یہاں چار سو سال پرانی مسجد تھی، اخروٹ کے باغ تھے، زرعی زمین تھی، آج پتھروں کا ڈھیر ہے تو ہم اب باقی زندگی یہاں کیسے گزار سکتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اچانک اور شدید موسمی تغیرات موسمیاتی تبدیلی کا واضح اشارہ ہیں، جس کے باعث مستقبل میں ایسے واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔