جنوبی وزیرستان میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملے میں 23 افراد زخمی
جنوبی وزیرستان میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملے میں 23 افراد زخمی
خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملے میں کم سے کم 23 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں چار کی حالت تشویشناک ہے۔
مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ کواڈ کاپٹر سے دھماکہ خیز مواد گِرنے کا یہ واقعہ جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل کی مرکزی شاہراہ کے قریب اُس وقت پیش آیا جب مقامی افراد والی بال کا میچ کھیل رہے تھے۔
شہریوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ڈرون جیسی چیز کو فضا میں اُڑتے دیکھا اور اس کے بعد دھماکہ ہوا۔ جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا وہاں کچھ دکانیں اور ساتھ ہی والی بال کا گراؤنڈ ہے۔
اس بارے میں ریجنل پولیس افسر ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن اشفاق انور اور جنوبی وزیرستان لوئر کے ضلعی پولیس افسر خان خیل سے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کے مطابق اس واقعے میں مجموعی طور پر 23 افراد زخمی ہوئے۔ ہسپتال کے مطابق چار زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جن میں سے دو کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وانا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جان محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ بہت سے زخمیوں کو ڈسچارج کر دیا گیا تاہم اُس وقت پانچ زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو مختلف قسم کے زخم آئے ہیں جبکہ دو شدید زخمی جن کے سینے پر گہرا زخم تھا اور ان کا زیادہ خون بہہ چکا تھا کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان ہسپتال روانہ کر دیا گیا تھا۔
ایک سرکاری اہلکار کا دعویٰ ہے کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت مبینہ طور پر علاقے میں مسلح شدت پسند موٹر سائیکل پر جا رہے تھے، تاہم اُن کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اور مزید تفتیش جاری ہے۔
جنوبی وزیرستان میں جماعت اسلامی کے امیر اسد اللہ بہیر نے بی بی سی کو بتایا کہ اِس حملے میں بے گناہ افراد زخمی ہوئے ہیں اور اس حوالے سے مقامی سطح پر سخت غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔
اس بارے میں ریجنل پولیس افسر ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن اشفاق انور اور جنوبی وزیرستان لوئر کے ضلعی پولیس افسر خان خیل سے رابطے کی کوشش کی گئی اور انھیں میسج بھی کیے گئے لیکن ان کی طرف سےاب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل 19 مئی کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے گاؤں ہرمز میں ایک مبینہ ڈرون حملے میں چار بچے ہلاک جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعہ کے بعد مقامی سطح پر بچوں کی لاشوں کو سڑک پر رکھ کر آٹھ روز تک احتجاج اور دھرنا دیا گیا اور گذشتہ روز (27 مئی) ہی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ دھرنا ختم کر کے لاشوں کی تدفین کی گئی تھی۔ دھرنا منتظمین کے ترجمان مولانا بیت اللہ کا دعویٰ ہے کہ انھیں حکام کی جانب سے یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ آئندہ ڈرون حملے اور شہری علاقوں میں گولہ باری وغیرہ نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب سرکاری اہلکاروں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ان علاقوں میں موجود مسلح شدت پسند بھی اب ڈرون اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال کر رہے ہیں، تاہم فی الحال اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے