اسلام آباد ہائیکورٹ کے جن چھے ججز نے خط لکھا ہے ان میں سے پانچ ججز میں نے ڈھونڈ کر لگائے تھے۔ جسٹس اطہر من اللہ*
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جن چھے ججز نے خط لکھا ہے ان میں سے پانچ ججز میں نے ڈھونڈ کر لگائے تھے۔ جسٹس اطہر من اللہ*
_جنہیں میری عدالت کے علاؤہ کہیں سے بھی ریلیف نہیں ملتا تھا آج وہ بھی میرے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں، 2022 میں جو میرے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے تھے اب وہ دوسری طرف کھڑے ہیں، جسٹس اطہر من اللہ کا نیویارک بار سے خطاب__جسٹس اطہر من من اللہ کا امریکہ میں کھڑے ہو کر کھڑاک_*
*_امریکہ کے جمہوریت کے بارے کچھ اصول ہیں امریکہ جمہوریت کو ویلکم کرتا ہے لیکن کسی ڈکٹیٹر کو ویلکم نہیں کرتا لیکن پتہ نہیں کیا ہوا بش نے اپنے اصول بھلا کر مشرف کو ریڈ کارپٹ دیا اور بھرپور ویلکم کیا_*
_میموگیٹ کیس ایسا نہیں تھا جو سپریم کورٹ کو لینا چاہیے تھا, وہ ایگزیکٹو کے ڈومین پر سپریم کورٹ کی جانب سے تجاوز کیا گیا۔ ہمارے ایک سفیر کو سپریم کورٹ نے غدار قرار دے دیا اور ایک منتخب وزیراعظم کو اس کے عہدے سے نااہل قرار دیا گیا، جو سپریم کورٹ کا کام نہیں تھا۔ جسٹس اطہر من اللہ_
صدر (آصف زرداری) کیخلاف (سوئس حکام کو) خط نہ لکھنے پر وزیر اعظم (یوسف رضا گیلانی) کو عہدے سے ہٹانا غلط تھا کیونکہ صدر کو آئینی استثنی حاصل تھا: جسٹس اطہر من اللہ_