اپوزیشن جماعتوں کا قومی ایجنڈا آج دوپہر 1 بجے پیش کیا جائے گا: عمران خان کی رہائی سرفہرست مطالبہ
اسلام آباد (رپورٹ: محمد حنیف شاہد ارائیں، بیورو چیف – دوآ آن لائن نیوز)
ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں نے آج دوپہر ایک بجے ایک مشترکہ قومی ایجنڈے کے اعلان کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اجلاس کو ملکی سیاست کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مشترکہ ایجنڈے میں سب سے نمایاں اور ابتدائی مطالبہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی فوری رہائی ہے، جو اس وقت مختلف مقدمات میں زیرِ حراست ہیں۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ عمران خان کے خلاف عدالتی کارروائیاں شفافیت سے محروم ہیں اور سیاسی انتقام پر مبنی ہیں۔
اجلاس کی قیادت متوقع طور پر مولانا فضل الرحمن، میاں شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اہم رہنما کریں گے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ملکی معیشت، آئینی بالادستی، عدالتی آزادی اور عوامی حقوق کی بحالی کے لیے متحد ہو کر ایک مربوط حکمتِ عملی ترتیب دی جائے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قومی ایجنڈے میں آئندہ عام انتخابات کے لیے شفاف اور غیرجانبدار نگران سیٹ اپ کے قیام، میڈیا پر قدغنوں کے خاتمے، مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اصلاحات، اور آئینی اداروں کی خودمختاری جیسے نکات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اپوزیشن اتحاد اپنے عزائم میں سنجیدہ رہا تو یہ موجودہ حکومت پر دباؤ بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ مشترکہ قومی ایجنڈا عوامی سطح پر کتنی پذیرائی حاصل کرتا ہے اور اس کا عملی نتیجہ کس شکل میں نکلتا ہے۔