201

گر تو برا نہ مانے *پاک فوج ہمارا فخر ہے*

گر تو برا نہ مانے

*پاک فوج ہمارا فخر ہے*

تحریر حاجی محمد ناصر سٹار ایشیا نیوز
روز نامہ سفیر پنجاب ملتان

ملک میں سرحدوں کی حفاظت کے لیے فوج ایک اہم کردار ادا کرتی ہے پاکستانی فوج کا شمار دنیا کی مضبوط ترین افواج میں ہوتا ہے پاکستانی فوج نے ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے پاک فوج دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے پاکستانی عوام مشکل کی گھڑی میں پاک فوج سے اپنی امیدیں وابستہ کرتی ہے سیاچن سے لے کر بلوچستان کراچی سے ساحل تک گوادر سے سوات تک پاک فوج کے بہت سے جوان جو اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کر دیتے ہیں اور گمنام رہتے ہیں سیاچن میں برفوں کے تودے تلے دبنے سے کئیں فوجی شہید ہوتے ہیں اور باڈر پر کھڑے جوان ملک و قوم کی خاطر اپنی جان کی بازی لگاتے ہیں بلوچستان ہو یا وزیرستان یہ اپنا کام با خوبی سر انجام دیتے رہتے ہیں پاکستان کے جوان اگر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش نہ کریں تو نہ ہی سکون سے ہم اپنی نیندیں پوری کر سکیں اور نہ ہی پر امن فضا میں سانس لیں سکیں اندھی ہو یا طوفان دن ہو یا رات سیلاب ہو یا پھر کوئی بھی مشکل وقت افواج پاکستان نے شاندار کردار ادار کیا جو قابل تحسین ہے ریلیف کیمپ میں فوج نے سیلاب زدگان کو خوراک فراہم کرنے سے لے کر انہیں محفوظ مقام تک منتقل کرنے تک بھرپور کردار ادا کیا مشکل میں عوام کی امید اور ٹوٹی اور بکھری عوام کو سہارا دینے سب سے پیش پیش پاک فوج رہی ہے 2005 کے زلزلہ سے جب ملک میں تباہی آئی اور لوگ بے گھر ہو گئے تب اس مشکل گھڑی میں پاک فوج نے ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے فوری آپریشن کیا اور لوگوں کو ان کے پیاروں سے جا ملایا پاکستان کی فوج اپنے عمل کی وجہ سے قابل عزت ہے اور ملک و قوم کے لیے باعث فخر بھی ہے پاک فوج کلمے کی بنیاد پر بننے والی ریاست لٹیروں عیاشوں بدمعاشوں اور ملک اور قوم کے غداروں کی نہیں بلکہ اسلام کی جاگیر ہے اس کے ذرے ذرے میں شہیدوں کا خون شامل ہےآج اس ملک کی سلامتی کے پیچھے وردی والے ہیں یہ وہ وردی ہے جو سر پر کفن باندھ کر دن رات ایک کر کے دشمن کو للکار رہی ہے اس وردی کو بدنام کرنا چھوڑیں اپنے اور اس ملک کے آنے والے کل کی فکر کریں جس پر یہود و نصاریٰ کی نظریں لگی ہوئی ہیں کب یہ اندرونی لحاظ سے کمزور ہوتا ہے جمہوریت کے دعوے کرنے والوں ذرا اس ملک کی حفاظت کے لیے اپنے بیٹے بھی قربان کرو شاید تمہیں اس وردی کی قدر ہو برطانیہ کے شاہی خاندان بھی تو فوجی خدامات سرانجام دیتے ہیں ہمارے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنے بیٹوں کو ملک کی حفاظت کے لیے مامور کریں لیکن یہ ایسا کیوں کریں گے ان کے بچے تو باہر کے ملکوں میں بادشاہوں جیسی زندگی گزار رہے ہیں اگر ہم ملک کے چند سال پہلے حالات دیکھیں تو جگہ جگہ مسجدوں میں بم دھماکے سکولوں کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا کیا قصور ان کو بھی یہ دہشت گرد نشانہ بنا رہے تھے اور ملک کے کونے کونے میں خون میں لت پت لاشیں دکھائی دیتی تھیں لیکن ان وردی والوں کی بدولت آج ملک امن کی ہوا قائم ہے اگر ملک پر کوئی بھی قدرتی آفت آئے سب سے پہلے یہی وردی والے اپنی عوام کی مدد کرنے کو پہنچ جاتے ہیں عوام کے دلوں میں ان وردی والوں کے خلاف نفرت پیدا کرنا اتنا آسان نہیں عوام با شعور ہے خدارا اس ملک کے ساتھ اگر کوئی ادارہ مخلص ہے تو اس کو مخلص ہی رہنے دیں اس کے خلاف عوام کے اندر نفرت پیدا نا کریں

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے

جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی

بلوچستان کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کے لیے ضرب عضب آپریشن کیا گیا جس میں پاکستان کے جوان شہید ہوئے یہ صرف اس لیے تاکہ عوام سکون سے زندگی بسر کر سکے اور ملک میں امن قائم ہو سکے سوات کو بھی دہشتگرد عناصر سے پاک کرنے کے لیے پاک فوج نے بہت سے قربانیاں دی ہیں اور ابھی بھی دے رہی ہے 9 مئی کو جس طرح پاک فوج اور پاک فوج کے شہدا کی تذلیل کی گئی وہ قابل مذمت ہے پاک فوج کی قربانیوں کو رائیگاں جانے دینا احسان فراموشی ہے جس طرح افواج پاکستان سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے وہ تعریف کے قابل ہے قوم کو متحد ہو کر افواج پاکستان کے لیے قدم بڑھانا چاہیے پاک فوج پاکستان کا فخر اور سر بلندی کا نشان ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں