11

میلسی (بیو رو چیف و ہا ڑ ی ) موضع فدہ میں مبینہ طور پر جعلی اور بوگس انتقالات درج کرکے غیر قانونی

میلسی (بیو رو چیف و ہا ڑ ی ) موضع فدہ میں مبینہ طور پر جعلی اور بوگس انتقالات درج کرکے غیر قانونی نقولِ ملکیت جاری کیے جانے کے معاملے نے مقامی سطح پر تشویش پیدا کر دی۔ متاثرہ شہریوں اور عوامی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پٹوار عملے اور بعض پراپرٹی ڈیلرز کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری اراضی ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر مبینہ ہیر پھیر کی گئی، جس کے نتیجے میں شہریوں کے ملکیتی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ذرائع اور متاثرہ افراد کے مطابق پٹواری مختیار انجم، اس کے منشی ملازم حسین اور بعض مقامی افراد و پراپرٹی ڈیلرز کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے موضع فدہ میں متعدد مبینہ جعلی انتقالات درج کیے اور ان کی نقولِ ملکیت جاری کیں۔ شکایت کنندگان کا دعویٰ ہے کہ اس عمل میں سرکاری فیسوں اور دیگر واجبات کی وصولی میں بھی مبینہ بے ضابطگیاں ہوئیں، جبکہ بعض دستاویزات پر متعلقہ تحصیلدار بہادر خان کے مبینہ جعلی دستخط اور مہریں استعمال کیے جانے کا بھی الزام سامنے آیا ہے۔متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض محکمانہ بے ضابطگی نہیں بلکہ سرکاری ریکارڈ میں جعل سازی اور شہریوں کے قیمتی اراضی حقوق سے متعلق ایک سنگین نوعیت کا معاملہ بن سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تمام مشکوک انتقالات، رجسٹرز، نقولِ ملکیت اور متعلقہ ریکارڈ کا فرانزک و محکمانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔دوسری جانب شکایت کنندگان کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ پٹواری کے میں نوعیت کے بعض دیگر انتقالات بھی مبینہ طور پر متنازع یا جعلی قرار دیے گئے تھے، تاہم ان کے بقول ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کر کے اگر کسی اہلکار، منشی یا نجی شخص کا جرم ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ متاثرہ شہریوں اور عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر وہاڑی، کمشنر ملتان ڈویژن اور حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ موضع فدہ کے مبینہ جعلی انتقالات کی اعلیٰ سطحی اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، تمام متعلقہ سرکاری ریکارڈ محفوظ کیا جائے، مشکوک انتقالات اور نقولِ ملکیت کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے اور مبینہ جعلی دستخطوں و مہروں کی بھی تصدیق کرائی جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات میں الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ملوث سرکاری اہلکاروں، منشیوں اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ شہریوں کے قانونی و ملکیتی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں