October 1, 2026

*لکی مروت میں پولیس اور فوج کے درمیان اختلافات کی من گھڑت اور بے بنیادخبریں – حقیقت کیا ہے؟*

20250429_173011

*لکی مروت میں پولیس اور فوج کے درمیان اختلافات کی من گھڑت اور بے بنیادخبریں – حقیقت کیا ہے؟*

آج 30 اپریل 2025 کو سوشل میڈیا پر لکی مروت کے حوالے سے گردش کرنے والی ویڈیوز اور خبروں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پولیس اور فوج کے درمیان کوئی تصادم ہوا ہے-

*یہ بات درست نہیں- فوج اور پولیس کے مابین کسی قسم کا کوئی جھگڑا یا تنازع نہیں ہوا۔*

*زیر گردش ویڈیو میں امن کمیٹی سے وابستہ، سول کپڑوں میں ملبوس چند پولیس اہلکاروں کو اسلحہ تھامے دیکھا جا سکتا ہے۔*

*دراصل پولیس کے اندرونی انتظامی معاملات پر بنائی گئی ایک خود ساختہ امن کمیٹی کے چند اہلکاروں نے اپنے مطالبات کی منظوری تک لکی مروت کی پولیس لائن کے ایک گیٹ پے قبضہ کر رکھا ہے۔اس گیٹ سے ڈی پی او کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں*

فوج کا ایک قافلہ غلطی سے اس گیٹ پے چلا گیا جو کہ ان اہلکاروں نے بند کر رکھا تھا-

یہاں پے پولیس کے کچھ بد اخلاق کارکنوں نے بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا-

پولیس کو اخلاقاً ایسا کرنا نہیں چاہئیے تھا کہ پوچھ ضرور لیتے کہ یہ گیٹ احتجاجًا بند ہے آپ دوسرے گیٹ سے چلے جائیں۔

*پاک فوج کے جوانوں نے تحمل، بردباری اور پیشہ ورانہ وقار کے ساتھ معاملہ کو رفع دفع کیا اور کوئی جوابی کاروائی نہیں کی ۔*

پولیس کے ان اراکین نے ویڈیوز بنا کے سوشل میڈیا پے ڈال دی- ان کی معمولی بے احتیاطی کیوجہ سے سوشل میڈیاء پے TTP انڈیاء ، افغانستان ، BLA سب کو بات کرنے اور ڈھونڈورا پیٹنے کا موقع مل گیا۔

*یہ واضح رہے کہ لکی مروت میں قائم یہ خود ساختہ امن کمیٹی پولیس کو درپیش اندرونی مسائل اور ان کے مطالبات کے حوالے سے سرگرم ہے۔ بعض مطالبات جائز ہیں، تاہم کچھ مطالبات، جیسے برطرف یا معطل اہلکاروں کی بحالی، نہ صرف پولیس کا اندرونی معاملہ ہے بلکہ ریاستی نظم و ضبط کے بھی خلاف ہیں۔*

یہ بات واضح ہے کہ *اس تمام معاملے سے پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ کسی ادارے کے اندرونی یا انتظامی معاملات میں مداخلت کرتی ہے۔*

*ایسے تمام جرائم پیشہ افراد، جن کے غیر قانونی کاموں کو فوج نے روک دیا ہے، اس من گھڑت بیانیے کو ہوا دے رہے ہیں کہ جیسے پولیس اور فوج آمنے سامنے ہیں ۔ اس کے علاوہ پی ٹی ایم اور بعض سیاسی عناصر، جو اپنے بیانیے کی ناکامی پر مایوسی کا شکار ہیں، پولیس کا کندھا استعمال کرتے ہوئے فوج کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔*

اس کے برعکس، *حقیقت یہ ہے کہ فوج اور پولیس کے درمیان ہمیشہ سے مثالی تعلقات قائم ہیں اور کئی دفعہ لکی مروت میں پولیس اور فوج نے خوارج کے خلاف مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے ہیں۔ اسی طرح صوبے بھر میں قائم 100 فیصد مشترکہ چیک پوسٹوں پر فوج اور پولیس کے جوان شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔*

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ *ماضی قریب میں برطرف شدہ پولیس اہلکاروں نے احتجاج کے دوران بھی اسی نوعیت کی زبان استعمال کی تھی، جس کی بروقت نشاندہی اور شدید مذمت کی گئی تھی۔ لہٰذا سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور ان میں موجود بیانیے کو بغیر تحقیق آگے بڑھانا قومی بیانیے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔* اور ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اس قسم کے عناصر کے پراپیگنڈے کا جواب قومی ہم آہنگی اور یکجہتی سے دیں۔