October 5, 2026

*صلاۃ التوبہ یعنی تو بہ کی نماز* منگل 29 اپریل 2025 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

20250419_102002

*صلاۃ التوبہ یعنی تو بہ کی نماز*

منگل 29 اپریل 2025
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

پیارے ہم وطنو!
آج کل وطن عزیز بڑے کٹھن دور سے گذر رہا ہے ہر طرف دشمنوں کی یلغار ہے اسرائیل سے ہماری توجہ ہٹانے کے لئے اور ہمیں الجھانے کے لئے ہمارے ازلی ہمسائے دشمن بھارت نے ہماری سرحدوں پر اپنی فوجیں لگا دی ہیں اور ہلکی پھلکی جھڑپیں بھی سرحدوں پر کئی روز سے شروع کر دی ہیں اور دیگر جنگی حکمت عملی کے تحت حرکتیں شروع کر دی ہیں اور موجودہ صورت حال سے ہم سبھی با خبر ہیں۔

ایسے مواقع پر آپ صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی سنت رہی ہے کہ جنگی تیاریوں کے ساتھ ساتھ قوم اللہ تبارک و تعالی کے حضور اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کی معافی مانگے اور نماز توبہ ادا کرے اور اللہ تعالی سے مدد کی دعائیں کرنا عین سنت عمل ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے یہ دعاء بھی منقول ہے۔

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ یَوْمِ السُّوْءِ وَ مِنْ لَیْلَةِ السُّوْءِ وَ مِنْ سَاعَةِ السُّوْءِ وَ مِنْ صَاحِبِ السُّوْءِ وَ مِنْ جَارِ السُّوْءِ فِیْ دَارِ الْمُقَامَةِ۔*

*اے الله! بے شک میں تیری پناه مانگتا ہوں برے دن اور بری رات سے، بری گھڑی اور برے دوست سے اور رہنے کی جگه میں برے ہمسایہ سے۔*

مسئلہ نمبر 408
*کسی خاص گناہ کے سرزد ہونے پر یا عام گناہوں سے توبہ کرنے کی نیت سے وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی طلب کی جائے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں۔*

*حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں جب بھی رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنتا ، اس پر عمل کرتا تو اس سے اللہ تعالیٰ جتنا چاہتا مجھے فائدہ پہنچاتا اور جب میں کسی صحابی رسول سے کوئی حدیث سنتا تو اس سے قسم لیتا جب وہ قسم کھاتا (کہ واقعی یہ اللہ کے رسول نے فرمایا ہے) تو میں اس پر ایمان لے آتا اور (عمل کرتا)*

یہ حدیث حضرت علی سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کی اور انہوں نے بالکل سچ کہا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ” میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کوئی آدمی جب گناہ کرتا ہے پھر وضو کر کے نماز پڑھتا ہے اور اللہ سے توبہ استغفار کرتا ہے تو اللہ اسے ضرور معاف فرما دیتا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔

وَالَّـذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوٓا اَنْفُسَهُـمْ ذَكَرُوا اللّـٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُـوْبِهِـمْۖ وَمَنْ يَّغْفِرُ

معافی طلب کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کے الذُّنُـوْبَ اِلَّا اللَّهُۖ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَهُـمْ يَعْلَمُوْنَ(آلعمران۔ آیت 135)

وہ لوگ جن سے کوئی فحش کام ہو جاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو انہیں فورا اللہ تعالی یاد آ جاتا ہے اور اس سے وہ اپنے گناہوں کی ⁹معافی طلب کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کر سکے، اور وہ لوگ جان بوجھ کر اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے(آلعمران۔ 135
رواہ ترمذی)

*دو رکعت نفل نماز کی ادائیگی کے بعد الدعاء مانگیں*
درود شریف پڑھنے کہ بعد درج ذیل الفاظ زبان سے ادا کرے اور پھر جو دل چاہے یا یہ مسنون دعاء مانگے۔ انشاءاللہ دعاء ضرور قبول ہو گی اور شرور سے خلاصی ملے گی۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
*يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغيثُ أَصْلِحْ لِي شَأْنِيَ كُلَّهُ وَلاَ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ*

ترجمہ: اے ہمیشہ سے زندہ ذات! اے ہر چیز کو قائم رکھنے والی ذات! میں تجھ سے تیری ہی رحمت کا واسطہ دے کر مدد طلب کرتا ہوں، میرے سارے معاملات سنوار دے، اور مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے سپرد مت فرما۔

یا رب کریم میں تجھ سے اپنے تمامتر گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ وہ گناہ جو مجھ سے بھولے سے سرزد ہوئے، لاعلمی میں سرزد ہوئے، جان بوجھ کر میں نے اپنی جان پر ظلم کیا چاہے وہ گناہ مجھے یاد ہیں یا میں بھول چکا ہو، سب ظاہری یا باطنی گناہوں کی میں صدق دل سے معافی مانگتا ہوں اور مصمم وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ان گناہوں کو پھر نہ کروں گا اور ان گناہوں کے معال و عذاب کو مد نظر رکھتے ہوئے دوبارہ یہ گناہ پھر نہ کروں گا بلکہ ان سبھی گناہوں کے لوازمات سے بھی دور رہوں گا۔
یااللہ تعالی میں توبۃ النصوح کرتا ہوں یا میرے رب میری توبہ قبول فرماتے ہوئے میرے سارے صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف فرما دے اور میرا کھاتہ ایسے صاف کر دے، دھو دے، مٹا دے جیسے یہ گناہ میں نے کبھی کئے ہی نہیں۔

یا اللہ میرے ارادوں میں پختہ تر کر دے کہ میں گناہوں کی طرف پھٹکوں بھی نہیں اور اے اللہ شیطان ملعون کے نرغے سے مجھے بچا لے کیونکہ شیطان کی چال بڑی گھناؤنی ہوتی ہے۔ *لا حول ولا قوۃ الاباللہ*

’’اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّی

یا اللہ تو معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند کرتا ہے لہذا مجھے معاف کر دے۔

يارب العالمين میں بہت گناہ گار ہوں، سیاہ کار ہوں، خطا کار ہوں مگر تیرا بندہ ہوں، فقط تیری ہی عبادت کرتا ہوں۔ تجھ سے ہی مدد اور دعاء مانگتا ہوں۔

یا اللہ تعالی میں تیرے آخری نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت میں سے ہوں۔

اے میرے رب میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں اور تجھ سے اپنے سابقہ تمام کبیرہ و صغیرہ گناھوں کی معافی مانگتا ہوں اور آئندہ کے لئے پکا وعدہ کرتا ہوں کہ گناہوں کے کام کے قریب بھی نہ پھٹکوں گا۔

یا اللہ تعالی میری توبہ قبول فرما اور اس توبہ کے ثمرات میری باقی زندگی میں نمایاں کردے تاکہ میں محسوس کر سکوں کہ تو نے مجھے معاف کر دیا ہے یعنی میری توبہ آپ کے ہاں قبول ہوگئی ہے تاکہ پھر سے میں لپک لپک کر مذید نیکیاں کروں تاکہ تیرا قرب حاصل کر سکوں.

یا اللہ تو معاف کرنے والا ہے
معافی کو پسند کرتا ہے
لہذا مجھے معاف کر دے۔

استغفراللہ ربی من کل زنب واتوب الیہ

آمین یا رب العالمین

Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
صلاة التوبہ