October 6, 2026

درحقیقت خالد نجیب خان

IMG-20250426-WA0207

درحقیقت
خالد نجیب خان
امریکی بورس یلسن کی پالیسیاں اور پاکستانیوں کا مستقبل
ماضی میں ہم نے اکثر یہ جملہ لوگوں کی زبانی سنا ہے ،”صدر ہو تو ایسا” مزے کی بات ہے کہ یہ جملہ کہنے والے زیادہ لوگ نہیں ہیں مگر جو بھی ہیں چار پانچ سال کے وقفے سے یہ کیسٹ چلا دیتے ہیں۔
کون کسی کو کیوں، کب اور کیسے پسند کرتا ہے،عموماً شرفا اِن سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔چونکہ ہمیں بھی یکے از شرفا ہونے کا یقین کامل ہے اس لئے کبھی بھی اِن سوالات کے جواب جاننے کی کوشش نہیں کی۔
حالانکہ ہمیں تو یہ بھی معلوم ہے کہ جنہوں نے ایسے سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کی اُن میں سے کئی تو اب ہم میں نہیں ہیں۔
ہمیں تو یہ بھی یاد ہے کہ پاکستان کی ایک بڑی اور اُس وقت کی برسراقتدار سیاسی جماعت کے سربراہ نے ایک بہت بڑے صحافی کو صدر مملکت بنانے کی پوری کوشش کی مگر اُنہوں نے پہلے تو صاف انکار کیامگر جب اصرار بڑھا تو اُنہوں نے اپنا نمائندہ یا متبادل دے دیا۔پھرجنرل پرویز مشرف نے اقتدار میں آنے کے بعد جب دورہ بھارت سے پہلے صدر مملکت بننا ضروری خیال کیا تو پہلے سے موجود صدر مملکت صاحب کو معزول کرنا ضروری خیال کیا۔ اُس وقت سمجھ آئی کہ اُن صحافی صاحب نے اتنا بڑا عہدہ قبول کیوں نہیں کیاتھا۔
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ آصف زرداری صاحب نے تمام آپشنز کی موجودگی میں دوسری مرتبہ بھی صدر مملکت بننا ہی پسند کیا۔حالانکہ اُن کے اختیارات اُن سے پہلے یا بعد میں آنے والے صدور سے کم یا زیادہ ہر گز نہیں ہیں۔ بہرحال یہ بھی تو حقیقت ہے کہ آصف زرداری صاحب کی سیاست کو سمجھنا آسان کام نہیں ہے۔ یہ جملہ کوئی عام شخص کہے تو اُس کی کوئی بہت زیادہ اہمیت نہیں ہے مگر یہ اعتراف شیخ رشید صاحب نے کیا تو یقین ہو گیا کہ آصف زرداری صاحب واقعی بہت بڑے سیاست دان ہیں۔ بے شک اُن کا فرمایا اور کیا ہوا،آملے کے کھائے کی مانند بعد میں ہی سمجھ آتا ہے۔
پاکستانی صدور سے ہٹ کر دیکھیں تو دنیا میں اوربھی صدور ہیں جن کی سیاست کو سمجھنا بہت زیادہ مشکل ہے۔چند ماہ قبل دوسری مدت کے لئے منتخب ہو کر آنے والے امریکی صدر ٹرمپ نے صدر بننے کے لئے اپنی اور اقوام عالم سے جو وعدے کئے وہ یقیناً ایسے وعدے تھے کہ اِس سے پہلے کسی اور صدارتی امیدوار کے ذہن میں نہیں آسکے تھے۔ایسے بھی کئی لوگ دیکھے گئے ہیں جو یہ سمجھ رہے تھے کہ 20جنوری 2025ءکے بعدٹرمپ کے حلف اُٹھاتے ہی امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے دن بدل جائیں گے جبکہ کہیں کہیں کچھ کچھ ایسا لگ بھی رہا تھا کہ ٹرمپ کے حلف اُٹھانے سے ایک دن قبل ہی غزہ میں کم و بیش پندرہ مہینوں سے جاری جنگ عارضی طور پر بند ہو گئی۔ جنگ بندی عارضی ہی سہی ،اِس سےبے شک دونوں فریقین کو کچھ دیر کے لئے سستانے کا موقع مل گیا۔امریکی اور غیر امریکی سب ہی یہ سمجھنے لگے کہ ٹرمپ کو منتخب کر نا بہت اچھا فیصلہ رہا ہے۔پھر چند دنوں کے بعد ہی جب صدر ٹرمپ کی جانب سے متنازعہ احکامات جاری ہونا شروع ہوئےتوزیادہ تر لوگ چوکنا ہونے لگے ۔خصوصاًٹیرف کے حوالے سے۔
بعض لوگ یہ خیال کررہے تھے کہ یہ سب کچھ تو صدر ٹرمپ کی “امریکہ فرسٹ پالیسی” کا کاونٹر ایفکٹ ہے مگر جب متاثرہ ممالک نے اُن کی پالیسی کے جواب میں اپنی پالیسی کو لاگو کیا تو سامنے آنے والے نتائج ایسے ہر گز نہیں تھے کہ اُس کو دیکھ کر کہا جاسکے کہ اس میں امریکی عوام کے لئے بھلائی ہے۔
کئی سال پہلے جب ٹرمپ نے پہلی مرتبہ صدارتی انتخابی مہم میں حصہ لینا شروع کیاتو اُن کی پالیسیوں کے پیش نظر بعض حلقوں میں اُنہیں “امریکی بورس یلسن” کے نام سے یاد کیا جانے لگا کہ جو امریکی صدر ہوتے ہوئے روسی مفاد کے لئے کام کرے گا۔”امریکی بورس یلسن” کی اصطلاع یا خطاب بے شک درجہ قبولیت حاصل نہ کرسکا ۔یہ نام دینے والے یہ خیال کررہے تھے کہ شاید اُنہیں ہی حساب لگانے میں کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے،اِس لئے اُنہوں نے بھی خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی۔گزشتہ دنوں آنے والی خبروں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اُس پرانے خیال کو درست سمجھنے کو دل چاہتا ہے کہ امریکہ فرسٹ کا نعرہ لگا کر امریکہ کو آگے لے کر جانے کی بجائے امریکہ کو کہیں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جب ٹیرف کے متعلق اپنے احکامات جاری کئے تو جہاں دنیا کے کئی ممالک پر اس کا اثر ہوا، پاکستان کی معیشت پر بھی اس کا اثر ہوا۔یہ اثر اس قدر شدید تھا کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں ایسی مندی چھائی کہ مارکیٹ کو کچھ دیر کے لئے بندکرنا پڑا ۔کچھ وقفے کے بعد جب سٹاک مارکیٹ کو دوبارہ کھولا گیا تو پھر وہی صورتحال تھی۔ اُس روز پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں لوگوں کی اربوں کی سرمایہ کاری ڈوب گئی۔پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں اِس طرح کا اُتار چڑھاؤ کوئی نئی بات تو نہیں تھی مگر جس کے کروڑوں ڈوب جائیں اُس کا غم کوئی غریب نہیں سرمایہ کار ہی محسوس کرسکتا ہے کیونکہ ایک غریب آدمی نے تو کروڑ یا ارب ڈالر کہیں لکھاہوا ہی پڑھا ہوتا ہے یا زیادہ سے زیادہ کبھی خواب دیکھا ہوتا ہے کہ اُس کے پاس کروڑوں روپے آجائیں تو وہ فلاں فلاں کام انجام دے لے گا۔مگر جس نے کروڑوں روپے نہیں کروڑوں امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہو وہ خواب نہیں دیکھتا بلکہ عمل کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہتا ہے۔وہ توتوقع کررہا ہوتا ہے کہ اُسے کچھ دیر میں لاکھوں ڈالرز کا منافع ہوسکتا ہے مگر اُسے یہ خبر ملے کہ اُسے چند ڈالرز کا بھی فائدہ نہیں ہونے والا بلکہ اُلٹا اُس کاتمام تر سرمایہ ہی ڈوب گیا ہے تو اس غم سے اُس کا فوت ہو جانا بھی بعید از قیاس نہیں ۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا حجم پاکستانی معیشت کے تناظر میں دیکھا جائے تو بہت بڑا ہے مگر جب اِس کو بین الاقوامی تناظر میں دیکھا جائے تو بہت ہی معمولی نظر آتا ہے۔بلکہ محاورے کی زبان میں اونٹ کے منہ میں زیرا ہے۔جبکہ امریکہ کے کسی ایک سٹاک ایکسچینج کا حجم ہی پاکستان کے واحد سٹاک ایکسچینج سے کم از کم چار گنا زیادہ ہے۔
گزشتہ دنوں امریکہ سے جب یہ خبر ملی کہ صدر ٹرمپ کے نئے بیان کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہوئی اور سٹاک مارکیٹ کریش کرگئی ہے۔واضح رہے کہ امریکی سٹاک مارکیٹ میں کریش ہونے کا رجحان بہت ہی کم ہے۔ واضح رہے کہ اُس روزاسٹاک مارکیٹ انڈیکس تقریباً 2.4 فیصد تک گر گیا تھاجبکہ سال رواں کے آغاز سے لے کر اب تک اُس نے اپنی قدر کا تقریباً 12فیصد کھو دیاتھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 1929ٔ کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ امریکہ کی سٹاک مارکیٹ متاثر ہوئی ۔
صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ شرح سود میں کمی کردینے سے اقتصادی ترقی کو تیز کرنے میں مدد ملے گی جبکہ مرکزی بنک کے سربراہ پاول نے مہنگائی پر ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات کے جائزے کو ترجیح دیتے ہوئے محتاط موقف اختیارکیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھاکہ معیشت اُس وقت تک سست ہوسکتی ہے جب تک کہ مرکزی بنک کے سربراہ شرح سود کو کم نہیں کرتے۔
امریکی سٹاک مارکیٹ کے کریش کرنے کی ذمہ داری صدرٹرمپ پر عائد ہوگی یا مرکزی بنک کے سربراہ پاول پر اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہو جائے گا مگر اِس بات میں تو دو رائے نہیں ہیں کہ امریکہ کی معیشت ڈوب چکی ہے اور ساری دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ اس کی ذمہ داری صدر ٹرمپ کے سوا کسی اور پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ٹرمپ کی ضد اورہٹ دھرمی اُنہیں امریکی بورس یلسن ثابت کرسکتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا ہوگیا تو ہم پاکستانیوں کا کیا بنے گا؟؟؟