غزہ ، سنہری لَو بجھا چاہتی ہے
غزہ ، سنہری لَو بجھا چاہتی ہے
غزہ جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے. غزہ کے جنوبی سرحدی علاقے رفح سے تمام لوگوں کو خان یونس کے مغرب میں واقع المواصی کیمپ کی طرف جانے پر مجبور کرنے کے بعد رفح کو اسرائیلی فوج اپنے قبضے میں لے چکی ہے
. شمال میں غزہ سٹی کے مشرقی حصے الشجاعیہ سے غاصب فوج کے دستے آگے بڑھ رہے ہیں.
انتہائی شمالی حصے بیت لاہیہ اور بیت حنون پر بھی فضائی اور زمینی حملے جاری ہیں. غزہ سکڑ رہا ہے. سمٹ رہا ہے. جاں بلب ہے. تنفس کے ڈوبتے ابھرتے سلسلے ہیں . شاید چند دن مزید. شاید دو ایک ہفتے اور. غزہ واسیوں نے اپنی ہمت سے بڑھ کر مزاحمت کی. اپنے حصے سے بڑھ کر قربانی دی. وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے.
حما.س نے جنگ شروع نہیں کی. جنگ تو سن اڑتالیس سے جاری ہے. وہ تو صرف اس جنگ میں تیزی کا سبب بنی ہے .
آج نہیں تو کل، بہرکیف ایسا ہونا ہی تھا.
ہاں البتہ ایک پہلو سے چوک ہوگئی.
حما.س سمجھی تھی کہ ارضِ مقبوض کے اڑوس پڑوس میں وہی ممالک حلقہ زن ہیں، جو اہلِ فلسطین کے لیے متعدد جنگیں لڑ چکے ہیں.
دو چار ماہ کی بات ہے. ہماری مزاحمت سے حوصلہ پکڑ کر میدان میں اتریں گے. یہ نہ کیا تو کم از کم پسِ پردہ رہ کر کردار ادا کریں گے. یہ بھی نہ ہوسکا تو کم از کم اتنا تو کریں گے کہ جب دیکھیں گے کہ پانی سر سے اونچا ہوا جا رہا ہے تو عالمی طاقتوں سے اپنے تعلقات کام میں لاتے ہوئے جنگ کی آگ ٹھنڈی کریں گے.
پھر ایران بھی تو ہے.
ایران کے ساتھ ساتھ خزب.اللہ بھی موجود ہے.
جن سے تعلق کے لیے عربوں کو ناراض کیا.
وہ تو آخری حد تک ساتھ نبھائیں گے. فتح نہ مل سکی تو کم از کم برابری کی بازی رہے گی.
یہ سوچ اندازے کی غلطی بھی تھی اور خوش فہمی بھی.
مگر مستقبل کے بارے کون جانتا ہے کہ کیا ہوگا.
کس کا دامن اشکوں سے تر ہوگا اور کس کے چہرے پہ فاتحانہ مسکراہٹ ہوگی.
اب جنگ کی کئی ایک جہتیں تھیں.
اگر حما.س اور اسرائیل دونوں کو باہر سے امداد نہ ملتی تو اسرائیل کی شکست یقینی ہوتی یا نہیں ،
مگر اتنا یقین ہے کہ کھیل برابری پہ ہی ختم ہوتا.
مگر اسرائیل کو امریکا کا بھرپور تعاون ملا.
اس صورت میں بھی اگر عرب نیم دروں نیم بروں ہی سہی،
مدد کرتے تو بھی اسرائیل کی ناک خاک آلود ہوتی.
تیسرا رخ ایران اور خزب.اللہ کا تعاون ہے. ایران بوجوہ کھلی جنگ نہیں لڑ سکتا تھا، نہ لڑتا،
مگر حزب.اللہ کو آخر دم تک لڑاتا.
اس صورت میں بھی اہلِ غزہ مسکراتے ہوئے اکھاڑے سے باہر آتے. حزب.اللہ کی جنگ میں شمولیت سے اسرائیل پہ بےپناہ دباؤ قائم ہو چلا تھا.
اس کی توجہ دو مختلف محاذوں پہ بٹ گئی تھی.
لبنانی تنظیم کے پاس اعلیٰ پائے کے ڈرونز اور میزائل تھے، جن کے بل بوتے پر خوب خوب کامیابیاں سمیٹی گئی تھیں. تب ہم نے کہا تھا کہ اگر جنگ مزید تین سے چار ماہ جاری رہی اور حزب.اللہ یونہی میدان میں ڈٹی رہی تو اسرائیل گھٹنے ٹیک دے گا.
حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت کی شہادت اپنوں کی مرہون منّت سے انجام دی گئی
دوسری جانب ایران مغرب کا دباؤ برداشت نہ کرسکا اور حزب.اللہ عین اس وقت داغِ مفارقت دے گئی جب سفر کی صعوبتیں اپنے جوبن پر تھیں. یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقتِ قیام آیا.
جب نہ عرب مدد کو لپکے، نہ نئے دوست دوستی نبھا پائے، پھر ڈیڑھ سال کی طویل جنگ ہو،
محاصرے کا حلقہ کسنے میں اپنوں کے ہاتھوں کی ہنر مندیاں بھی شامل ہوں تو انجامِ کار ٹوٹنا اور بکھرنا ہی بنتا ہے.
یہ حما.س کی شکست نہیں کہ وہ تو محاذ پہ آج اور اس لمحے بھی ڈٹی اور جمی ہوئی ہے ،
یہ حقیقت میں اہلِ عرب کی شکست ہے.
غزہ آخری مورچہ تھا.
بالکل ویسے جیسے جلال الدین شاہِ خوارزم مزاحمت کے ترکش کا آخری تیر تھا.
اس کے بعد نہ بغداد رہا نہ خلافتِ عباسیہ. غزہ کے بعد نہ قاہرہ قاہرہ رہے گا.
نہ بیروت بیروت رہے گا.
نہ عمان عمان ریے گا.
یہ تو اس ہولناک سانحے سے متاثر ہونے والے دائروں میں سے سب سے اندرونی دائرے کی تصویر ہے جہاں تک قیامت خیز ارتعاش نے فوری اثر ڈالنا ہے. یہ خطہ کہاں تک لہو رنگ ہوگا ؟ سوچ کر جھرجھری سی آتی ہے.
وائے متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا