قاضی نے بھی ایڈہاک ججز والی حرکت کے بعد تقریبا اپنا آخری پتہ کھیل دیا ہے۔۔
زیادہ تر ججز اب قاضی کے خلاف ہیں۔۔ تو وہ اپنے ہم خیال ججز کو لاکر شاید جاتے جاتے نمک ہلالی کرنا چاہ رہا ہے حکومت کے ساتھ۔۔
بہرحال۔۔ ابھی 19 جولائی کو اجلاس ہوگا۔۔ اسکے بعد پتہ چلے گا۔۔ کہ کیا ہوتا ہے۔۔
جن چار ججز کو قاضی نے چنا ہے۔۔ ان کی تھوڑی بہت تفصیلات۔۔
مقبول باقر۔۔
یہ موصوف سابق نگران وزیر اعلٰی سندھ رہ چکے ہیں۔۔ اور سپریم کورٹ کے سابق جج بھی رہ چکے۔۔
سردار طارق مسعود۔۔
یہ وہی موصوف ہیں۔۔ جنہوں نے سویلینز کی ملٹری کورٹس میں ٹرائل کی اجازت دی۔۔
جسٹس مظہر عالم میاں خیل۔۔
ان موصوف کا آپ کو معلوم ہوگا ہی۔۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے قاسم سوری رولنگ کیس میں عمران خان، عارف علوی اور قاسم سوری پر آرٹیکل 6 لگانے کی تجویز دی تھی۔۔
ایک اور بات۔۔
جسٹس مشیر عالم، مقبول باقر اور مظہر عالم وہی ججز ہیں۔۔ جنہوں نے قاضی کے خلاف آنے والے ریفرنس کو میرٹ پر نہیں چلنے دیا۔۔ ورنہ قاضی اب تک کب کا اپنے گھر بیٹھا ہوتا۔۔
اب آپکو معلوم ہوچکا ہوگا۔۔ کہ قاضی بھی اپنے ہینڈلرز کی طرح مکمل ایکسپوز ہوچکا ہے۔۔ تو جاتے جاتے اسی حالت میں ناچ کر جانا چاہتا ہے۔۔!!