80

‏آرٹیکل 6 کا نفاذ، حکومتی بوکھلاہٹ کمپنی کا ترکش تیروں سے خالی ہوتا جارہا ہے اور اب آخری تیر یعنی آرٹیکل 6 کو بھی ٹاکی مار کر آزمانے کا سوچ رہے ہیں۔

‏آرٹیکل 6 کا نفاذ، حکومتی بوکھلاہٹ
کمپنی کا ترکش تیروں سے خالی ہوتا جارہا ہے اور اب آخری تیر یعنی آرٹیکل 6 کو بھی ٹاکی مار کر آزمانے کا سوچ رہے ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے پر قاسم سوری، عمران خان اور صدر علوی آئین کو سبوتاژ کرنے کے الزام میں آرٹیکل 6 لگائیں گے۔
ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رُولنگ کو آپ زیادہ سے زیادہ غیرآئینی کہہ سکتے ہیں اور غیرآئینی رولنگ پر آرٹیکل 6 کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ پارلیمنٹ نے ماضی میں کئی قانون بنائے جنہیں سپریم کورٹ نے غیرآئینی قرار دے کر معطل کردیا۔ کیا اس عمل پر قانون ساز اراکین پر آرٹیکل 6 لگایا جاسکتا تھا؟ ہرگز نہیں۔
آرٹیکل 6 کا نفاذ آئین کو معطل یا اس کے کسی حصے کی خلاف ورزی پر ہوتا ہے جیسے کہ پنجاب اور خیبرپختون خواہ اسمبلیوں کو توڑنے کے بعد 90 دن میں انتخابات آئینی تقاضا تھا جسے الیکشن کمیشن نے پورا نہیں کیا۔ راجہ سکندر پر آرٹیکل 6 پوری طرح اپلائی ہوتا ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ آرٹیکل 6 کا شوشا چھوڑ کر کمپنی نے اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دیا ہے۔ آپ شوق سے عمران خان، علوی اور قاسم سوری پر یہ آرٹیکل لگوانے کی کارروائی کریں، یہ پہلے مرحلے میں ہی مسترد ہوجائے گا۔
لیکن اس کے بعد تحریک انصاف کے پاس اخلاقی، آئینی اور قانونی جواز ہوگا کہ وہ بھی موجودہ اور سابق آرمی چیفس، ڈی جی آئی ایس آئی اور دوسرے اہلکاروں کو آرٹیکل 6 کے نرغے میں لائے۔
جب اس نے ایسا کیا تو عوامی سپورٹ اس کے ساتھ ہوگی، بین الاقوامی میڈیا اس عمل کو سراہے گا اور مغربی ممالک اسے جمہوری عمل قرار دیں گے۔
اس وقت کسی جرنیل کے پاس چھپنے کو کوئی جگہ نہیں بچے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں