بہاول نگر۔ ( )کمشنر بہاول پور ڈویژن نادر چھٹہ نے آج بہاول نگر میں زیر تعمیر مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کے منصوبے کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ذوالفقار احمد بھون ممبر صوبائی اسمبلی سہیل خان، ممبر صوبائی اسمبلی زاہد اکرم ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ظہور حسین اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ کمشنر بہاول پور نادر چھٹہ نے پراجیکٹ کے مختلف حصوں کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر کمشنر نے کہا کہ یہ میگاپراجیکٹ ضلع بہاول نگر میں صحت کے شعبے میں سٹیٹ آف دی آرٹ جدید ترین سہولیات کے ساتھ ماں اور بچے کی صحت میں بھی انقلابی تبدیلیوں اور بیمثال ترقی کا باعث بنے گا۔ قبل ازیں کمشنر بہاول پور ڈویژن نادر چھٹہ نے بہاول نگر میں زیر تعمیر میڈیکل کالج کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر بہاول نگر ذوالفقار احمد بھون اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ کمشنر بہاول پور کو سائٹ پر بریفنگ دی گئی بعد ازاں کمشنر بہاول پور ڈویثرن نادر چھٹہ
نے شہریوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے فیلڈ میں متحرک ہیں۔انہوں نے ڈی ایچ کیو ہسپتال بہاولنگر کا اچانک دورہ کیا ۔ کمشنر بہاول پور ڈویثرن نادر چھٹہ نے ہسپتال میں مختلف وارڈز کا معائنہ کیا، سٹاف کی حاضری چیک کی۔ کمشنر بہاول پور ڈویثرن نے ہسپتال میں ادویات کی کوالٹی اور دستیابی سمیت صفائی ستھرائی کے نظام کا بطور خاص جائزہ لیا۔ کمشنر بہاول پور ڈویثرن نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے ہسپتال میں طبی سہولیات بارے دریافت کیا ۔اس موقع پر کمشنر بہاول پور ڈویثرن نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر شہریوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اس حوالے سے میں خود تمام ہسپتالوں ،بنیادی مرکز صحت اور ہیلتھ یونٹ کے وزٹس کر رہا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ وزٹ کا بنیادی مقصد عوام الناس کو بھرپور ریلیف کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔ضلع کے ہیلتھ سیکٹر سمیت دیگر تمام محکمہ جات کی کارکردگی کو مستقل بنیادوں پر جانچا جا رہا ہے۔عوامی خدمت پر بھرپور توجہ مرکوز رہے گی جو کہ ہماری بنیادی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔
*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: پٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہ ہوئیں*
روھڑی نماہندہ سلیمان ملک) سول ڈیفنس روہڑی کی جانب سے 8، 9 اور 10 محرم الحرام کے دوران 250
روھڑی نماہندہ محمد سیلمان ملک سکر: يوم عاشور (10 جي صورتحال ۾ مدد ڪرڻ لاءِ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ بنانے والے وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہاوس کے ملازمین کو چھ ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا اعلان کردیا۔
ایئر انڈیا کا ایک طیارہ، پابندی کے باوجود، پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو گیا۔ جیسے ہی پاک فضائیہ (PAF) کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا، طیارہ واپس امرتسر کی جانب لوٹ گیا*