میلسی میں یومِ اردو کے موقع پر *”تلمیحاتِ قاصرؔ”* کی تقریبِ اجرا
میلسی میں یومِ اردو کے موقع پر *”تلمیحاتِ قاصرؔ”* کی تقریبِ اجرا
اردو کے فروغ اور ادبی تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے۔ *پروفیسر شفیق الرحمٰن الہ آبادی* کی نئی تصنیف کو علمی و ادبی حلقوں میں خوش آمدید
میلسی ( بیو رو چیف ) یومِ اردو کے موقع پر *میلسی رائٹرز فورم پاکستان، بزمِ اقبال (گورنمنٹ گریجوایٹ کالج میلسی) اور پاکستانی تنظیمِ اساتذہ برائے تدریسِ اردو (پتا بتا)* کے زیرِ اہتمام معروف محقق اور نقاد *پروفیسر شفیق الرحمٰن اِلہ آبادی* کی نئی تصنیف *”تلمیحاتِ قاصرؔ“* کی تقریبِ اجرا *25 فروری 2025ء کو گورنمنٹ ہائی اسکول میلسی* میں منعقد ہوئی۔
تقریب کی صدارت میلسی رائٹرز فورم پاکستان کے چیئرمین تحسین یزدانی نے کی۔ جبکہ اس موقع پر مرید عباس الماس، اعجاز احمد، میاں زاہد نظامی، پروفیسر شاہد حفیظ، محمد کامران خالد اور محمد شاہد سمیت دیگر علمی و ادبی شخصیات موجود تھیں۔ تقریب کے ابتدائی حصے میں یومِ اردو کی مناسبت سے مقررین نے اظہارِ خیال کیا اور اردو کو بطور قومی زبان نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اردو صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثہ ہے، جسے محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کے لیے تعلیمی اداروں، حکومتی سطح پر اور عوامی سطح پر عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو کی تدریس میں جدت اور توانائی پیدا کرنے کے لیے اساتذہ کو نئی تدریسی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کو اس زبان کی خوبصورتی اور افادیت سے روشناس کرایا جا سکے۔
تقریب کے دوسرے حصے میں پروفیسر شفیق الرحمٰن اِلہ آبادی کی تازہ ترین تصنیف *”تلمیحاتِ قاصرؔ“* کا اجرا کیا گیا۔ اس کتاب میں اردو کے معروف شاعر غلام محمد قاصرؔ کی شاعری میں موجود مذہبی، تاریخی، مکانی، ادبی اور لوک داستانوی تلمیحات کی تفہیم اور تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ تحسین یزدانی نے کتاب کی اشاعت کو ایک بڑی علمی خدمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جب کتابوں سے دوری اختیار کی جا رہی ہے، ایسے وقت میں علمی و تحقیقی کتاب کی اشاعت کسی کارنامے سے کم نہیں۔
مرید عباس الماس نے کہا کہ *”تلمیحاتِ قاصرؔ“* پروفیسر شفیق الرحمٰن الہ آبادی کی تحقیقی کاوشوں میں ایک اہم اضافہ ہے، جو ادب کے طالب علموں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی۔
اعجاز احمد نے اس تصنیف کو تنقیدی ادب میں سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیق و تنقید کا عمل تخلیقی ادب کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
میاں زاہد نظامی نے مصنف کی نثر میں روانی، حسنِ بیان اور علمی گہرائی کی تعریف کی، جبکہ پروفیسر شاہد حفیظ کے مطابق یہ کتاب غلام محمد قاصرؔ کی شاعری کو نئے تناظر میں متعارف کروانے کا باعث بنے گی اور اردو ادب کے قارئین کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوگی۔
محمد کامران خالد نے کہا کہ یہ تصنیف اردو ادب کے طلبہ کے لیے ایک نایاب تحقیقی ماخذ ہے، جس میں صنعتِ تلمیح کو ایک نئے زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔
تقریب کے اختتام پر پروفیسر شفیق الرحمٰن الہ آبادی نے شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تحقیق و تنقید کا سفر ہمیشہ جاری رہے گا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی تصنیف حاضرین کو تحفتاً پیش کی، جسے علمی حلقوں میں پسندیدگی کی سند سے نوازا گیا۔
یہ تقریب اردو زبان اور ادب سے محبت رکھنے والے افراد کے لیے ایک فکری و علمی نشست ثابت ہوئی، جس میں اردو کے فروغ اور علمی و ادبی کتب کی اشاعت کو مثبت اور خوش آئند قرار دیا گیا۔