65

سردار شاہ وزیر معدنیات ننگر پارکر میں بہت عرصے سے مائننگ کا مسئلہ چل رہا ہے

سردار شاہ وزیر معدنیات

ننگر پارکر میں بہت عرصے سے مائننگ کا مسئلہ چل رہا ہے
سابقہ حکومت میں بھی یہ مسئلہ تھا
پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ مقامی لوگوں کی مرضی کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی
نگران حکومت میں بہت ابہام پیدا کیئے گئے
نگران وزیر کہتا رہا کہ مائیننگ کریں گے
میں نے کارونجھر میں جا کر سروے کرایا
گرینائٹ کے ذخائر کی بات ہوتی رہی
پھر یہ مسئلہ آئی ایف سی میں لے گئے
وہ ورک ایبل پلان نہیں تھا
اس مسئلے پر سندھ ہائی کورٹ کے دو فیصلے موجود ہیں
ننگر پارکر کا پورا علاؤہ وائلڈ لائف سینچوری ہے
کارونجھر فقط پتھر کا نام نہیں

کارونجھر ایک تاریخ ہے مذہبی عقائد ہیں
*وزیر معدنیات سندھ سردار شاہ*
کوئی بھی ترقی مقامی افراد سے رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ہے
ایک نگراں وزیر ماضی میں بغیر تحقیقات بڑے دعویٰ کرتے رہے

وہان کے لوگ مطمئن نہیں ہوسکتے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا
ننگرپارکر میں مائننگ ممکن نہیں تھی، سردار شاہ
کارونجھر کے علاقے سے مذہب اور عقائد منسلک ہے
کارونجھر کا علاقہ رام سر کنویشن کی بنیاد پر وائلڈ لائف سینچری ڈکلیئر ہے
کارونجھر برقرار رہے گا ، چوڑیو کے پہاڑ برقرار رہیں گے

محکمہ معدنیات سندھ نے ننگرپارکر کو لینڈ اسکیپ یونسفکو میں رپورٹ دی ہے
کارونجھر سے منسلک تمام پہاڑ برقرار رہیں گے، کوئی بھی کسی قسم کی مائننگ نہیں ہوگی،
خارسر سائیٹ کارونجھر کے پہاڑوں سے 25 کلومیٹر دور ہے
یہ سائیٹ سن 2000 مائننگ کی اجازت دی ہوئی ہے ، وزیر معدنیات
خارسر سائیٹ وائلڈ لائیف سینچری ڈکلئیر ہے، یہ معاملہ اب وائلڈ لائیف اور دیگر طے کرینگے
کارونجھر کا پہاڑ ہمشیہ برقرار رہیں گے، ہم کارونجھر سے محبت کرتے ہیں
سردار شاہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں