*ایک التجا* ہمارے ہاں ڈاکٹر ۔ انجنئیر ۔ بیوروکریٹس اور جج صاحبان سب 60 سال کے ہو کر ریٹائر ہو جاتے ہیں مگر سیاستدان اور مولوی ہیں کہ کبھی ریٹائر نہیں ہوتے ۔ اس پہ ایک اور ستم کہ سینئر فوجی
*ایک التجا*
ہمارے ہاں ڈاکٹر ۔ انجنئیر ۔ بیوروکریٹس اور جج صاحبان سب 60 سال کے ہو کر ریٹائر ہو جاتے ہیں مگر سیاستدان اور مولوی ہیں کہ کبھی ریٹائر نہیں ہوتے ۔ اس پہ ایک اور ستم کہ سینئر فوجی خود کو کبھی ریٹائر سمجھتے نہیں ۔ ان سب سے صرف تب جان چھوٹتی ہے جب یہ قتل ہو جائیں ۔ کسی جلسے میں بم دھماکے میں شہید ہو جائیں ۔ طبعی موت مر جائیں ۔ نامعلوم افراد ان کو غائب کردیں یا غدار کے لیبل کے ساتھ ملک سے کوچ کر جائیں ۔
کیا کوئی طریقہ ۔ کوئی قانون ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ سب بھی ایک عمر کے بعد ہمیشہ کیلئے ریٹائر ہو جائیں اور نئی نسل کو موقعہ ملے کہ وہ ملک و قوم کی بھاگ دوڑ سنبھال لے ۔ اس سے ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہوگا کہ جو واقعی چور اچکے ہیں وہ منظر سے بتدریج غائب ہوتے جائیں گے ۔
زرداری صاحب ۔ نواز شریف صاحب ۔ مولانا صاحب ۔ شیخ رشید ۔ اچکزئی اور محترم عمران خان صاحب جیسے بزرگ اب اگر اللہ اللہ کریں تو کیا واقعی ملک نہیں چلے گا؟
کیا محکموں کے سربراہ ایکٹینشن نہ لیں تو محکمے بند ہو جائیں گے؟
کیا ریٹائرڈ سینیر فوجی اپنی نوجوان نسل کی خاطر دوبارہ نوکریاں نہ لیں تو پانچ سات سو گز کے گھر میں لاکھوں کی پینشن کے ساتھ بھوکے مر جائیں گے ؟
میری عمر 69 سال ہے اور میری عمر کے لوگوں نے ہی بشمول میرے اس ملک کو اس حالت کو پہنچایا ہے کہ اب ساری تکلیفیں ہمارے بچے بھگت رہے ہیں ۔ ہم ہی ہیں وہ چور اچکے جو اب اپنے بچوں کے سامنے ایک دوسرے کے پول کھول رہے ہیں ۔اس سے پہلے کہ ہماری سیاسی نفرتیں اور دشمنیاں اگلی نسل کو بھی جکڑ لیں کیوں نہ ہم اپنے بچوں کے راستے سے ہٹ جائیں ۔
ہمارے سب تعلیم یافتہ بچے جس تیزی سے ملک چھوڑ کر جارہے ہیں اگر ہم اب بھی نہ سدھرے تو اگلے 8-10 سال میں ملک میں صرف پلمبر ۔ مستری ۔ الیکٹریشن اور مزدور ہی رہ جائیں گے جو ہمارے مرنے کے بعد ملک سنبھالیں گے ۔
کاش ہم اب ہی قوم کی جان چھوڑ دیں ۔ کیا پتہ اس نیکی کے بدلے رب کریم ہمیں بخش دے ورنہ *ہماری عمر کے پاپیوں کے پلے ہے کیا سوائے سازشوں اور بے ایمانیوں کے* ۔
*برگیڈیربشیرآرائیں*