گانے بجانے کی اجازت آئمہ مساجد پرایف آئی آر کاسلسلہ جاری لاؤڈاسپیکرایکٹ پرسیکیورٹی اداروں کا جانبدارانہ رویہ مذہبی حلقوں میں تشویش میلسی(نمائندہ بدلتازمانہ)
گانے بجانے کی اجازت آئمہ مساجد پرایف آئی آر کاسلسلہ جاری لاؤڈاسپیکرایکٹ پرسیکیورٹی اداروں کا جانبدارانہ رویہ مذہبی حلقوں میں تشویش
میلسی(نمائندہ بدلتازمانہ)
میلسی میں قانون نافذکرنےوالے اداروں کی جانب سے لاؤڈاسپیکر ایکٹ پرعملدرآمدکےلئے مختلف مساجد ومسالک کےعلمائےکرام پر مقدمات درج کرنے کاسلسلہ جاری ہے لاؤاسپیکر ایکٹ کےتحت اذان اور خطبہ کےعلاوہ مساجد کی چھت پرنصب کئےگئے اسپیکر میں تقریرکرنایادیگرمسالک کےخلآف نفرت انگیز الفاظ کےاستعمال پر ایکٹ لاگوہوتاہے جس کی ریکارڈنگ بطورثبوت سیکیورٹی اداروں کےپاس موجودہوناضروری ہے جبکہ کسی بھی مقام لاؤڈاسپیکر میں گانےچلانا شوروغل سے شہریوں کواذیت دینابھی لاؤڈاسپیکر ایکٹ زمرے میں آتاہے لیکن میلسی پولیس اور قانون نافذکرنے والے اداروں نے کاروباری مراکز رکشہ گاڑی شادی بیاہ میں لاؤڈاسپیکر کےاستعمال کی اجازت دےرکھی ہے اور آئمہ مساجد پرمقدمات درج کرنےکاسلسلہ جاری کررکھا ہے میلسی میونسپل کمیٹی کےامام وخطیب پر تین سےزائدایف آئی آر درج ہوچکی ہیں دیگرمساجد کےآئمہ کرام کومقدمات کاسامناہے آئمہ مساجدکاکہناہے کہ سیکیورٹی اداروں کےاہلکار کئی کئی سالوں سے ایک شہرمیں ڈیوٹی کےفرائض انجام دےرہےہیں اور جیسےہی لاؤڈاسپیکر ایکٹ پرعملدرآمد کاحکم آتاہے وہ مخصوص آئمہ کرام پر مقدمےکآاندراج کردیتے ہیں جس کی خلاف ورزی کاثبوت بھی پیش نہیں کیاجاتا اور ناہی کوئی تنبیہ کی جاتی ھے ڈی۔پی او وہاڑی منصورامان سے گزارش ہے کہ آئمہ کرام پر درج کئے گئے مقدمات خارج کئے جائیں اور میلسی پولیس کو گھربیٹھے ایف آئی آر کے اندراج سے روکاجائے