ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی ۔،5نو مبر کو ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکہ کی عوام کی را ے سے صدر منتخب ہو گئے ۔ ٹرمپ کی فتح کسی تاریخ سے کم نیہں جو صدر کا ایک بار الیکشن ہارنے کے بعد دوبارہ صدر منتخب ہو گئے اس پر پوری دنیا بھر سے بڑے بڑے بادشاہوں نے ان کو
ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی ۔،5نو مبر کو ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکہ کی عوام کی را ے سے صدر منتخب ہو گئے ۔ ٹرمپ کی فتح کسی تاریخ سے کم نیہں جو صدر کا ایک بار الیکشن ہارنے کے بعد دوبارہ صدر منتخب ہو گئے اس پر پوری دنیا بھر سے بڑے بڑے بادشاہوں نے ان کو مبارک باد دی ۔ہمارے پیار ے وطن عزیز پاکستان کے وزیر اعظم ،میاں شہباز شریف نے کہا ،جنگ سنڈے میگزین کے مطابق ،کہ پاکستانی حکومت اور نئی امریکی انتظا میہ مل کر تعلقا ت اور شرا کت داری کو مضبوط بنا یں گے ،ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وکٹر ی سپیچ میں کہا کہ امریکی عوام نے ان کو غیر معمولی اور طاقت ور مینڈ یٹ سے نوازا ہے ان باتوں پر کوئی شک نہیں کیونکہ ٹرمپ نے نہ صرف الكٹر و رل کولج میں فیصلہ کن برتری حاصل کی بلکہ سات سو ینگ اسٹیٹس میں سے 6 ان کی گود میں گرے ۔ٹرمپ نے الكٹرو رل کولج کے 292وو ٹ حاصل کیے بلکہ سینٹ اور کا نگر یس میں بھی ان کی ری پبلیكن پارٹی کو برتری حاصل ہوئی اس پر وہ كملا ہیرس سے آگے رہے ۔جو نمبر انہوں نے ابھی حاصل کئے یہ 2016 میں بھی نیہں حاصل کر سکے تھے ۔امریکی کی عوام نے اپنے ملک کےمفادات و تارکین وطن کے معاملات کو ترجیح دی یہ ان کے اندرونی ہیں ۔ٹرمپ کا شمار دنیا کے بڑے رہنما جو قوم پرست ہیں ان میں ہوتا ہے ،جس کا نعرہ مستقل طور پر ،امریکہ فرسٹ اور امریکہ کو مز ید مضبوط بنانے کا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف تین امور پر اپنا فو کس برقرار رکھا ۔جیسا کہ ان کا کہنا ہے کہ صرف قانونی طور پر امریکہ میں رہا جا سکتا ہے 2۔دیگر ممالک سے تجا ت پر مزید ٹیكس لگا یں گے 3_یو کرین اور مشر ق وسطی میں مزید کوئی نئی جنگ کا پروگرام نہ کرنا صرف اور صرف امن ،پر ان کا فو کس ہے ۔كملا ہیرس یہ دوسری خاتون صدارتی امید وار ہیں جس کو گز شتہ دس برسو ں میں صدارتی انتخاب میں شکست ہوئی ان دونو ں شکست زد ہ خواتین کا تعلق ڈیمو کر یٹک پارٹی سے ہے ان سے پہلے خاتون ہیلری کلنٹن تھیں ۔امریکہ کی میں سٹر یم میڈیا نے بھر پور ساتھ دیا كملا کو کہ روشن خیالی اور جس میں نو جوان وو ٹر ز کی چو ایس منتخب کی گئی لیکن امریکی و مغر بی و ان کی پیر و ی کرنے والے میڈیا کی پیش گوئی غلط ثابت ہو گئی ۔اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا کانٹے دار مقابلہ پر ٹرمپ کی فتح کا راز کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ چار سال سے ٹرمپ نے اپنی عوام سے رابطہ برقرار رکھا تھا اور ان کے قانونی مشا ور و مدد بھی کرتے رہے ۔اس طرح امریکی قوم اپنے منتخب ہونے والے صدر کی پشت پر کھڑی ہے اس سے ناقد یں کا یہ دعو ی بھی غلط ہو گیا کہ امریکہ ایک تقسیم شدہ قوم ہے جس کا ثبوت ان کا ووٹ کی تعداد ہے ٹرمپ نے ایک غیر رو ا یتی سیاست دان اور بزی نس مین کے طور پر سياست میں قدم رکھا جس کا كاز زیادہ تر معا شیت کو مضبوط بنانے کا ہے ۔اب وہ ایک پختہ سياست دا ن بن چکے ہیں ،سیاسی دا و پیچ ،عالمی معا ملات دو طرفہ تعلقات جسے امور کو بخو بی سمجھتے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کیلے ٹرمپ کا دور کیسا ہو گا ۔اس کو دو پہلو سے بھی دیکھا جا سکتا ہے ،ایک تو یہ پاکستانی تارکین وطن کو بڑے سنبهال کر اپنے قدم رکھنے ہوں گے تہ محض پیش گوئی کی جا سکتی ہے اصل تو دیکھا جائے گا انے والے وقت میں ،ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں اپنے دبا و میں رکھا افغان مسلہ پر اسی وجہ سے ان کو دو مرتبہ امریکہ جانا پڑا ۔ٹرمپ نے دو ہا معا ہدے تک اپنا دبا و برقرار رکھا بلکہ ان کو خوش کرنے کیلے دو چار الفاظ اچھے بھی استمال کرتے رہے ۔مگر اس کے بعد عمران خان کی حکومت جاتی رہی اور عدم ا عتماد کے بات بڑی بڑی باتیں کی گئی ۔پھر دوسری امریکہ کی حکومت نے کسی کی کوئی بات نہ سنی کیونکہ وہاں اس قسم کی حکومت آئی جس کے انسانی حقوق کے کوئی معنی نہیں ہیں ان کی نظر میں صرف امریکہ اہم ہے ۔ اس لیے ہمیں امریکہ سے اچھا اور مضبوط دوستانہ تعلق رکھنا ضرور ی ہے جس سے پاکستا ن و پاکستان کی عوام کو فائدہ ہو ۔