انتخاب،،، نجیب عاطف صحافت میں ایم فل کی ڈگری لینے کے بعددل میں شعبہ تدریس کی جستجو اور دلچسپی کی ایک لگن بیدار ہوئی۔ اس وقت کبھی نہیں سوچا تھا کہ دورانِ تعلم و تدریس کسی ایسے ستارہ ِ فلک سے ملاقات ہو جائے گی جس کی روشنی
انتخاب،،، نجیب عاطف
صحافت میں ایم فل کی ڈگری لینے کے بعددل میں شعبہ تدریس کی جستجو اور دلچسپی کی ایک لگن بیدار ہوئی۔ اس وقت کبھی نہیں سوچا تھا کہ دورانِ تعلم و تدریس کسی ایسے ستارہ ِ فلک سے ملاقات ہو جائے گی جس کی روشنی میرےلیےبھی ناگزیرہوجائےگی۔انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی،اسلام آباد کےشعبہ اُردومیں صحافت سےمتعلق مضمون کی تدریس کی ذمہ داری کاموقع ملا۔ تعلم وتعلیم کےدوران ہی پتہ چلاکہ کلاس میں ایک شہزادافق نامی لڑکا ہےجس کےپاس ادب،سماج،انسانیت فورم پاکستان نامی ادارے کی ذمہ داری ہے اور یہ ادارہ پورے مُلک میں ادب، سماج انسانیت کالیبل لگا کر ہر قسم کےفن میں صلاحیت رکھنے والے فن کاروں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے اند ر معاشرتی شعور کی آگاہی کی ایک نئی بنیاد ڈال رہا ہے۔
شروع شروع میں تومیں نے اس میں دلچسپی نہ لی مگر برخوردار شہزادکے پُر زور اصرار پر پچیس دسمبر ۲۰۲۱کو ادارہ ہذا کے زیراہتمام ہونے والی سالانہ ایوارڈ تقریب میں شرکت کی تو یہ راز کُشا ہوا کہ ادارہ ہذا ایک ایسا فورم اور پلیٹ فارم ہےجس کے بارے میں جتنا کہا جائے اور جتنا لکھا جائے کم ہے۔معاشرے میں ادب،سماج،انسانیت،مذہبی رواداری اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ نئے آنے والے لکھاریوں کی motivationکے لیے ادارہ کی کوششیں بے نظیر ہیں۔
شہزاد اُفق نےبحیثیت ادارہِ سربراہ اور ادارے کے باقی منتظمین نے جس محنت،لگن اورانتھک کوشش کو اپناتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو اس ادارے پر صرف کیا ہے اُن کا صلہ انہیں اس ادارے کے پے درپے ہونے والے کامیاب پروگراموں کی صورت میں مل رہا ہے۔ادارے کے زیرِ اہتمام ہونے والے پروگراموں میں تقریبا تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے احباب،بالخصوص مذہب،سیاست،صحافت،ادب، شاعری، گائیکی وغیرہ سے وابستہ لوگوں اور فنکاروں کو بُلایا جاتا ہے اور اُن کی حوصلہ افزائی کےلیےاُنہیں مختلف ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مختلف مصنفین کی زندگی کے تمام شعبہ جات پر لکھی گئی تصانیف کے حوالے سے آگاہی و معلومات بھی دی جاتی ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ ادب، شاعری ،تدریس، سیاست،صحافت، گائیکی اور زندگی کے دیگر شعبہ جات سے متعلق تشنہ لب لوگوں کے لیے یہ ادارہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے ہرطرح کی سیرابی ممکن ہے۔ دُعا ہے کہ یہ ادارہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت کی خلیج کو ختم کرنے میں کُلیدی کردار ادا کرےاورایک ایسی رواداری اورمعاشرتی برداشت کو فروغ دے جس کے ثمرات سے انسانیت ہمیشہ بہرہ ور ہوتی رہے۔