October 28, 2026

درحقیقت خالدنجیب خان اقبال !ہم شرمندہ ہیں مگرشرمندگی کی کوئی بھی واضح علامت نظر نہیں آرہی

20241109_085448

درحقیقت

خالدنجیب خان
اقبال !ہم شرمندہ ہیں
مگرشرمندگی کی کوئی بھی واضح علامت نظر نہیں آرہی
 ہم اقبالؒ کے نظریات کو بھلا کرخود ایک ایسی ڈگرپر گامزن ہوگئے ہیں کہ جو ہر آنے والے دن ہمیں منزل سے دور لے جارہی ہے
قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان میں ہندؤں کے مقابلے میں صرف مسلمان قوم تھی جوآج ڈھونڈے سے بھی نہیں مل رہی ،کیا اُسے اقبال ؒنے مٹایا ہے؟
اقبال نے تو کہا تھا کہ؂ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئےمگر چند ایک کے سوا مسلمان حکمران حرم کے سوا ہر چیز کی ہی پاسبانی کے لئے ایک پیج پر نظر آتے ہیں
یوم اقبال گزشتہ کئی سالوں سے جس طرح سے منایا جارہا ہے اُس کو دیکھ کر اگر یہ کہا جائے کہ یہ محض ایک رسم کے طور پر ہی منایا جاتا ہے تو غلط ہر گز نہیں ہوگا۔ہماری آج کی نوجوان نسل کو علامہ اقبال کے حوالے سے اِس سے زیادہ علم نہیں ہے کہ پاکستان کا خواب علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے دیکھا تھا۔یہ خواب یا خیال اُنہیں کیوں آیا یا کن حالات میں آیا،اِن سوالات کے جواب جاننا اِس نسل کے لئے غیر ضروری قرار پا چکا ہے کیونکہ مطالعہ پاکستان کی تعلیم ایک حد تک اب متروک ہو چکی ہے جو اِس سے قبل طلبہ میں پاکستان اور نظریہ پاکستان کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔آجکل کئی فورمز پر یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ آج ہم جس پاکستان میں رہ رہے ہیں،اِس کا خواب علامہ اقبالؒ نے نہیں دیکھا تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال نے مسلمانان برصغیر پاک وہند کےلئے صرف الگ وطن کا تصور پیش نہ کیا بلکہ اُس عظیم قائد کی بھی نشاندہی کی کردی جو اِس مقصدِ عظیم کے حصول کےلئے جملہ صلاحیتوں اور خوبیوں سے مالا مال تھا۔آج کی نئی نسل کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی وجہ شہرت پاکستان کا خیال پیش کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اُن کی علمی قابلیت دنیا بھر میں مسلمہ تھی۔ ان کی فلاسفی اور شاعری کا ڈنکا چار سو بج رہا تھا جس کی وجہ سے اُن کی آواز کو سُنا جاتا تھا، اِسی وجہ سے اُنہیں آل انڈیا مسلم لیگ کا سربراہ بھی منتخب کیا گیا تھا۔
اُس وقت برصغیر میں مہاسبھائی ذہنیت کے سبب مسلمانوں کی ترقی کا کوئی راستہ موجود نہیں تھااور وہ بےچارگی ومجبوری کے عالم میں ہندوؤں اور انگریزوں کی کاسہ لیسی پر مجبور تھے ۔ انگریز کا تصور جمہوریت ہندواکثریت کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کوہمیشہ کےلئے مجبور ومحکوم بناناتھا۔ بقول اقبال اِس تصور حکومت میں بندوں کوگنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ یہ تصور اُس ملک میں تومفید ثابت ہوسکتا ہے جہاں ایک ہی عقیدہ وملک کے لوگ اور قوم آباد ہوں مگرایسا ملک جہاں مختلف اقوام آباد ہوں یہ تصوراکثریت کو اقلیت پر حکمرانی کا کھلا موقع دیتا ہے۔مسلمان قوم ایک طرف فرنگی حکمرانوں کی دشمن تھی کہ اُنہوں نے اُن سے اقتدار چھینا تھا دوسری طرف ہندو اکثریت سے خوفزدہ تھی۔ مسلمان چونکہ فرنگی حکمرانوں کو نکالنا چاہتے تھے اِس لیے ہندو اکثریتی قوم سے مل کر جدوجہد کے خواہاں تھے۔اِن حالات میں علامہ اقبال نے بیداری ملت کا کام شروع کیا۔بے شک اقبال بھی اُن اَکابر میں تھے جوپہلے متحدہ جدوجہد کے قائل تھے اور اُن کا یہ ترانہ زبان زدوخاص وعام تھا۔
؂سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
پھرحالات وواقعات نے جلد ہی اُن پر ہندوذہنیت واضح کردی او روہ ہندو مسلم اتحاد کوناممکن قراردینے لگے۔ کانگریس کے متحدہ قومیت کے مقابل مسلم قومیت کا تصور پیش کرکے الگ مملکت چاہنے لگے۔ علامہ نے مسلمانوں کو الگ قوم کا تصور عام کیا اورکہا۔
؂خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی
علامہ کا کہنا تھا کہ ہم محض مذہب کی بنا پر الگ قوم کا دعوی نہیں کرتے بلکہ ہمارا موقف ہے کہ اسلام جاندار اور آفاقی مذہب ہے اور دنیا بھر کے مسلمان ایک ملت اور اسلام پر یقین نہ رکھنے والے دوسری قوم ہیں۔ یہاں تک مسلمانوں کے ہاں جو چیز حلال خوراک ہے، وہ ہندوؤں کے ہاں مقدس اور ناقابل تقسیم گاؤماتا ہے۔ دونوں اقوام کے تہذیب وتمدن الگ الگ ہیں۔ اِس پیغام کو عام کرنے کےلئے اُنہوں نے صرف اشعار ہی نہیں کہے بلکہ ہندوستان کے طول وعرض میں گئے، خطبات دئیے، خطوط لکھے اور لیگ کی تنظیم میں بھرپور کردار ادا کیا۔
دسمبر1930ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کا تاریخی سالانہ اجلاس الٰہ آباد میں ہوا جس میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے علامہ اقبال نے فرمایا؛” برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمانوں کےلئے الگ مملکت قائم کردی جائے کیونکہ دونوں اقوام کا یکجارہنا ناممکن ہے اور نہ ہی یکجا ہوکر آگئے بڑھ سکتے ہیں۔ الٰہ آباد میں گنگاوجمنا کا پانی جس طرح الگ الگ نظر آتا ہے۔ اس طرح یہ دونوں اقوام اکٹھی رہنے کے باوجود الگ الگ ہیں۔ ہندوستان کے مسئلے کا حل علیحدہ قومیت کاو جودناگزیر ہے۔ ہندوستانی معاشرہ کی اکائیاں یورپی ممالک کی طرح علاقائی نہیں۔ یہ خطہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی مختلف نسلوں پر مشتمل انسانی گروہوں کا ہے۔ الگ الگ قومیتی گروہوں کو تسلیم کئے بغیر پوری جمہوری اصول کا اطلاق ہندوستان پر نہیں ہوسکتا۔ اِس لیے مسلمانوں کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ ہندوستان کے اندر مسلم انڈیا کا قیام عمل میں لایا جائے”۔ مزید فرمایا؛”میں پنجاب، سرحدی صوبہ، سندھ، بلوچستان کوضم کرکے ایک الگ مملکت کی صورت دیکھنا چاہتاہوں۔ مذکورہ ریاست مسلمانوں کی آخری منزل ہے“
گویا اُنہوں نے بڑی وضاحت سے ہندوستان کے حالات، مسلمانوں کی مشکلات، اُن کے مستقبل اور مسلمانان ہند کی منزل کی نشان دہی کی اورمسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مملکت کا خیال پیش کیا۔ ملت نے علامہ اقبال کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر حضرت قائداعظم کی قیادت میں اُس تصور کو عملی جامہ پہنایا اور اُس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی مملکت اسلامی پاکستان قائم ہوئی۔
علامہ اقبال نے چونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کے دور میں آنکھ کھولی، مسلم اُمّہ کی پستی کو دیکھا مگر مایوس کن حالات کے باوجود ”اپنی کشت ویراں سے“ مایوس نہیں ہوئے، آپ کی جاگتی آنکھیں اُمت کی نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھتی تھیں۔ علامہ اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا ،درحقیقت ایک اسلامی ریاست تھی جس کے لئے رول ماڈل مدینہ کی اسلامی ریاست تھی اور وہ چاہتے تھے کہ اِس ریاست میں اسلامی قانون کی بالادستی قائم رہے۔
پاکستان کے قیام کے بعد بہت سی جماعتوں نے اپنے منشور کی پہلی شقوں میں اسلامی شریعت و قانون کی بالادستی کو قرار دیا مگر وہ اپنے منشور سے پھر گئے اور شریعت پر عمل نہ ہو سکا، اِسلامی قانون کے نفاذ کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل بھی قائم کی گئی جس نے سفارشات مرتب کر کے حکومت پاکستان کو بھیج دیں مگر اُن پر بھی عمل نہ ہو سکا۔
آج ہر پاکستانی اِس بات پر نازاں تو ہے کہ پاکستان کا خواب اقبالؒ نے دیکھا اور قائد اعظم نے اِس کی تعبیر کی مگر وہ اِس بات پر پریشان بھی ہے کہ یہ وہ پاکستان تو نہیں ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا اور بہت سے پاکستانی تو آج نظر آنے والی بہت سی خرابیوں کی ذِمّہ داری بھی اقبال و قائداعظم پر ڈال رہے ہیں جس کی واحد وجہ یہی ہے کہ اُن تک نامکمل معلومات پہنچائی گئی ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اقبالؒ کے نظریات کو بھلا کرخود ایک ایسی ڈگرپر گامزن ہوگئے ہیں کہ جو ہر آنے والے دن ہمیں منزل سے دور لے جارہی ہے ۔اقبال نے تو کہا تھا
؂ جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اور ہم نے دین اور سیاست کو جدا جدا کر کے مغرب کی منشا کے عین مطابق مذہب و سیاست کو ایک دوسرے کے لئے حرام قرار دےدیا ۔
اقبال نے تو کہا تھا کہ
؂ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
مگر چند ایک کو چھوڑ کردنیا بھر کے مسلمان حکمران اِس وقت حرم کے سوا ہر چیز کی ہی پاسبانی کے لئے ایک پیج پر نظر آتے ہیں۔قبلہ اول آج یہودیوں کے قبضہ میں جا چکا ہے، مسجد اقصی کوگرانے کے لئے وہ اُس کے نیچے سرنگیں تو کئی سال پہلے ہی کھود چکے تھے اوراب وہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کو راستے میں لاتے ہوئے ہندوستان تک ایک طویل شاہرہ بنانے کے کام کا آغاز کرچکے ہیںجبکہ ہمارے حکمرانوں کی یہ فکر ہی جان نہیں چھوڑ رہی کہ بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لئے عوام پر نئے ٹیکس کس طرح سے لگائےجائیں کہ بدنامی بھی نہ ہو ۔
اقبال نے تو کہا تھا کہ
اسلام ریاست اور فرد دونوں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مگر ہمارے حکمرانوں نے ہمیں ریاست یا اجتماعی مسائل پر بات کرنے یا سوچنے کی اجازت ہی نہیں دی ہے ۔ نماز روزہ حج زکوۃ جیسے مرضی اور جتنا مرضی کرتے رہو نہ ملکی حکمرانوں کو کوئی اعتراض ہے اور نہ ہی “حکمرانوں کے حکمرانوں” کو اِس کی کوئی پرواہ ہے ۔ جیسے ہی کہیں کوئی اسلامی ریاست یا اقامت دین کی بات کرتا ہے سب کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اور تمام تر مشینری اُس کے خلاف استعمال ہونے کے لئے اکھٹی ہو جاتی ہے۔یورپ میں مذہب ایک فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔ وہاں فرد روح اور مادہ میں تقسیم ہے، ریاست اور کلیسا الگ ہیں، خدا اور کائنات میں کوئی تعلق نہیں لیکن اسلام ایک وحدت ہے جس میں ایسی کوئی تفریق نہیں ہے۔ اسلام چند عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔
اقبال نے تو اپنے خطبہ الہ آباد میں کہا تھا کہ
مسلمان ایک قوم ہیں،ہندوستان کے مسلمان اپنے تہذیب و تمدن، ثقافت اور اسلام کی وجہ سے یہاں کی دوسری قوموں سے مختلف ہیں، ان کی تعداد براعظم میں سات کروڑ ہے اور ہندوستان کے دوسرے باشندوں کی نسبت اُن میں زیادہ ہم آہنگی اور یکسانیت پائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہی جدید ترین معنی میں قوم کہا جا سکتا ہے۔جبکہ ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں سندھی،پنجابی،پشتون،بلوچ، مہاجر،جاٹ،آرائیں،ملک ،راجپوت ،شیخ وغیرہ قومیں ہیں۔حالانکہ قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان میں ہندؤں کے مقابلے میں صرف مسلمان قوم ہی تھی ۔وہ مسلمان قوم توآج ہمیں ڈھونڈے سے بھی نہیں مل رہی ،کیا اُس قوم کو اقبال ؒنے مٹایا ہے یا کسی اور نے؟
اقبال نے تو کہا تھا کہ
؂یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
مگر آج ہمیں مسلمان تو نہیں ملتا مگر سنی ،بریلوی،دیوبندی ،وہابی،شعیہ وغیرہ ہر طرف مل جاتے ہیں جو کہ اچھی بات نہیں ہے۔
اقبال نے تو ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر میںمتحدہ قومیت کی تردیدکی تھی مگر آج مسلم حکمران مسجد،مندر اور گرجا کو ایک ہی جگہ جمع کرنے کی فکر کررہے اور اِس کے ساتھ ساتھ قرآن، تورات اور انجیل کو ایک جلد میں شائع کرنا چاہتے ہیں۔یہ کوششیں مسلم حکمرانوں میں سے ہی کچھ کررہے ہیں اور اُن کی بدنیتی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔
اگر ہم نے حالات پر غور و خوض نہ کیا اور اپنے حالات کو سدھارنے اور اسلام کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی جدوجہد نہ کی اور انقلاب بپا نہ کیا تو ملکی ہی نہیں بلکہ پوری اُمّہ کےحالات مستقبل قریب میں اِس سے بھی زیادہ خطر ناک حد تک پہنچ سکتے ہیں اور پھر شایدکوئی بھی کچھ نہ کر سکے گا۔
ایسے میں اگر ہم یہ کہیں کہ اقبال ہم شرمندہ ہیں تو یہ بھی درست نہیں ہوگاکیونکہ شرمندگی کی کوئی بھی واضح علامت ہم میں نظر نہیں آرہی ۔